٩٥١١ - حدثنا شريك عن القعقاع قال: سألت إبراهيم عن السعوط بالصبر للصائم فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٩٥١٢ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس بالسعوط للصائم وكره الصب فِى (الأذن) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنا جائز ہے البتہ کان میں دوائی ڈالنا مکروہ ہے۔
٩٥١٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن (الحسن) (١) أنه كره للصائم أن (يستسعط) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٩٥١٤ - (حدثنا) (١) ابن نمير عن حريث عن الشعبي أنه كره السعوط للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے روزہ کی حالت میں ناک میں دوائی ڈالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔