کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو
٨٧٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ذئب عن عثمان بن عبد اللَّه بن سراقة عن جابر بن عبد اللَّه قال: رأيت النبي ﷺ يصلي على راحلته نحو المشرق في غزوة أنمار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبدا للہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غزوئہ انمار میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے دیکھا اس وقت آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔
٨٧٣٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد وعن ابن أبي ليلى عن نافع عن ابن عمر عن النبي ﷺ أنه كان يصلي على راحلته التطوع في السفر حيث توجهت به يومئ إيماء السجود أخفض من الركوع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو اور آپ رکوع سجدہ اشارے سے اس طرح فرماتے کہ سجدہ رکوع سے زیادہ جھکا ہوا ہوتا تھا۔
٨٧٣٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عمرو بن يحيى بن عمارة المازني عن سعيد بن يسار عن ابن عمر قال: رأيت النبي ﷺ يصلي على حمار نحو المشرق وهو متوجه إلى خيبر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ خیبر کی طرف جاتے ہوئے آپ اپنے حمار پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ مشرق کی جانب تھا۔
٨٧٣٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: بعثني النبي ﷺ في حاجة (قال) (١): فجئته وهو يصلي على راحلته نحو المشرق والسجود أخفض من الركوع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں آیا تو آپ اپنی سواری پر مشرق کی طرف رخ کئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا سجدہ آپ کے رکوع سے زیادہ جھکا ہوا تھا۔
٨٧٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر أن النبي ﷺ كان يصلي على راحلته في السفر حيثما توجهت به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو۔
٨٧٣٧ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر عن أبي جعفر قال: كان علي يصلي على راحلته (حيث) (١) توجهت به ويجعل (السجود دون الركوع) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ وہ سجود کو رکوع سے زیادہ جھکا ہوا بناتے تھے۔
٨٧٣٨ - حدثنا حميد عن حسن عن عاصم عن أبي عثمان أن أبا ذر كان يصلي على راحلته وهو قبل المشرق وهو يخفق برأسه فقيل له: كنت (نائما) (١) قال: لا ولكن كنت أصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت ابو ذر سر کو جھکا کر مشرق کی طرف رخ کرکے اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سو رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں میں نماز پڑھ رہا تھا۔
٨٧٣٩ - حدثنا ابن علية عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن محمد ابن عبد الرحمن عن جابر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي على راحلته نحو المشرق فإذا أراد أن يصلي المكتوبة نزل فاستقبل القبلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر مشرق کی طرف رخ کرکے نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور جب آپ نے فرض نماز ادا فرمانی ہوتی تو سواری سے نیچے اتر کر قبلہ کی طرف رخ فرمایا کرتے تھے۔
٨٧٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن ربعي بن الجارود (بن) (١) أبي (سبرة) (٢) التميمي قال: حدثني عمرو بن أبي الحجاج عن الجارود بن أبي سبرة عن أنس بن مالك (أن) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤) إذا أراد أن يصلي على راحلته تطوعا استقبل القبلة فكبر للصلاة ثم (خلى عن) (٥) راحلته فصلى حيثما توجهت به (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سواری پر نفل نماز پڑھنا چاہتے تو قبلے کی طرف منہ کرکے نماز کے لئے تکبیر کہتے۔ پھر اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہتے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہوجاتا۔
٨٧٤١ - [حدثنا عبدة عن عبد الملك عن ابن جبير عن ابن عمر أن النبي ﷺ كان يصلي فخلى راحلته حيث توجهت به وكان ابن عمر يفعل ذلك] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر نماز پڑھتے رہتے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہوجاتا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
٨٧٤٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا يونس بن الحارث الطائفي عن أبي بردة بن (أبي) (١) موسى عن أبيه أنه كان يصلي على راحلته حيثما توجهت به [في السفر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ سفر میں جس طرف بھی سواری کا رخ مڑ جاتا اسی طرف نماز پڑھتے رہتے تھے۔
٨٧٤٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن علي بن عتيق عن أبي بردة عن أبي موسى أنه كان يصلي على راحلته في السفر حيثما توجهت به] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ سفر میں جس طرف بھی سواری کا رخ مڑ جاتا اسی طرف نماز پڑھتے رہتے تھے۔
٨٧٤٤ - [حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد قال: رأيت أنسًا يصلي على حمار يومئ لغير القبلة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو دیکھا کہ وہ اپنے حمار پر قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے تھے۔
٨٧٤٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا (عمر) (١) بن شيبة بن (قارظ) (٢) عن عبد اللَّه البهي (مولى آل الزبير) (٣) قال: صحبت عبد اللَّه بن عمر من مكة إلى المدينة فكان يصلي على راحلته إلى غير القبلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بہی مولی آل زبیر کہتے ہیں کہ میں مکہ سے لے کر مدینہ تک حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا، وہ اپنی سواری پر قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔
٨٧٤٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن مجاهد قال: صحبت ابن عمر من المدينة إلى مكة (فكان) (١) يصلي على (دابته) (٢) (حيث) (٣) توجهت به فإذا كانت الفريضة نزل فصلى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ سے مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہوتا۔ البتہ جب انہوں نے فرض نماز پڑھنی ہوتی تو نیچے اتر کر پڑھتے تھے۔
٨٧٤٧ - حدثنا محمد بن أبي محدي عن أشعث عن محمد (١) أن (أبا) (٢) أيوب كان يصلي على راحلته حيث توجهت به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب اپنی سواری پر سوار ہوکر نماز پڑھا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف مڑ جاتا۔
٨٧٤٨ - حدثنا هشيم عن الغلاء بن (زيد) (١) عن الحسن أو غيره الشك مني أن أصحاب رسول اللَّه ﷺ كانوا يصلون في أسفارهم على (دوابهم) (٢) حيثما كانت وجوههم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اپنے سفروں میں اپنی سواریوں پر نماز پڑھا کرتے تھے خواہ ان کا رخ کسی بھی طرف ہوجاتا۔
٨٧٤٩ - (حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يصلون على رواحلهم ودوابهم حيثما كانت وجوههم) (١) إلا المكتوبة والوتر فإنهم كانوا يصلونهما بالأرض.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اپنی سواریوں پر نماز پڑھا کرتے تھے خواہ ان کا رخ کسی بھی طرف ہوتا، البتہ فرض نماز اور وتروں کو زمین پر اتر کر پڑھا کرتے تھے۔
٨٧٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون (قال) (١): سألت القاسم بن محمد يصلي الرجل على راحلته قال: نعم قلت: يصلي حثما كان وجهه قال: نعم قلت: يجعل السجود أخفض من الركوع قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد سے سوال کیا کہ کیا آدمی اپنی سواری پر نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، پڑھ سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اس کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سواری پر نماز پڑھتے ہوئے اپنے سجود کو رکوع سے زیادہ جھکائے گا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، ایسا ہی کرے گا۔
٨٧٥١ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن محمد (عن) (١) عبيدة قال: يصلي الرجل على راحلته حيث كان وجهه فإذا كانت الفريضة نزل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی سواری پر نماز پڑھ سکتا ہے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو، البتہ فرض پڑھنے کے لئے نیچے اترے گا۔
٨٧٥٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا (عبد اللَّه) (١) بن حميد عن أبي جعفر محمد بن علي أن أباه علي بن حسين كان يصلي على راحلته في السفر حيث توجهت به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین اپنی سواری پر نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو۔
٨٧٥٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن (بكير) (١) بن الأخنس عن رجل عن جابر بن عبد اللَّه أن النبي ﷺ كان يصلي في السفر على راحلته حيث توجهت به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبدا للہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو۔
٨٧٥٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي الهزهاز (قال) (١): سألت الضحاك عن الصلاة على الدابة فقال: حيث كان وجهه يجعل السجود أسفل من الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہزہاز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ضحاک سے سوال کیا کہ کیا آدمی اپنی سواری پر نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں جس طرف بھی اس کا رخ ہو، نماز پڑھ سکتا ہے۔ البتہ اپنے سجود کو رکوع سے زیادہ جھکائے۔
٨٧٥٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عمران بن مسلم عن سويد بن غفلة قال: كنا نصلي على دوابنا في الغزو حيثما (توجهت) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوات میں اپنی سواریوں پر نماز پڑھا کرتے تھے خواہ ان کا رخ کسی بھی طرف ہوتا۔
٨٧٥٦ - حدثنا عبد الأعلى أو حدثت عنه عن معمر عن الزهري عن عبد اللَّه ابن عامر بن ربيعة عن أبيه أن النبي ﷺ كان يصلي على راحلته حيثما توجهت به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو۔