کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک مسجد میں بلغم ڈالنا یا تھوکنا مکروہ ہے
٧٦٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن عياض بن عبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح عن أبي سعيد، قال: دخل رسول اللَّه ﷺ المسجد وبيده عرجون وكان يحب العراجين، فرأى نخامة في القبلة فحكها، ثم أقبل على الناس فقال: "أيها الناس؛ إن أحدكم إذا قام يصلي استقبله اللَّه ﷿ وعن يمينه ملك، أفيحب أحدكم أن يستقبله الرجل فيبزق في وجهه، فلا يبزق أحدكم في القبلة ولا عن يمينه، وليبزق تحت رجله اليسرى أو عن يساره فإن عجلت به (بادرة) (١) (فليقل) (٢) هكذا"، يعني في ثوبه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی، آپ کھجور کی شاخوں کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے قبلہ کی جانب تھوک دیکھی تو اسے کھرچ دیا۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے لوگو ! جب تم مں ی سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرتا ہے۔ اور اس کے دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کسی آدمی کی طرف منہ کرکے اس پر تھوکے ؟ پس تم نہ تو قبلہ کی طرف تھوکو اور نہ ہی اپنے دائیں طرف تھوکو ۔ اگر کسی کو تھوکنا ہی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں تھو ک لے۔
٧٦٥٠ - حدثنا ابن علية عن القاسم بن مهران عن أبي رافع عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ رأى نخامة في قبلة المسجد، فأقبل على الناس بوجهه فقال: "ما بال أحدكم يقوم مستقبل ربه فيتنخع (أمامه؛ أيحب أحدكم أن يستقبل، ⦗٩٧⦘ فيتنخع) (١) في وجهه (٢)، إذا (تنخع) (٣) أحدكم (فليتنخع) (٤) عن يساره أو تحت (قدمه) (٥)، فإن لم يجد (فليقل) (٦) هكذا في ثوبه"، ثم أرانا إسماعيل أنه يبزق في ثوبه ثم يدلكه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیکھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہوا جو اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اس کے سامنے تھوکتے ہیں ؟ ! کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کی جانب منہ کرکے تھوکے ؟ اگر کسی کو تھوکنا ہی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں تھو ک لے۔ یہ فرما کر راوی اسماعیل نے اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل کر دکھایا۔
٧٦٥١ - حدثنا حفص عن حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ أبصر نخامة في المسجد فمسحها، ثم قال: "إذا بزق أحدكم فلا يبزق في القبلة ولا عن يمينه ولكن ليبزق عن يساره أو تحت قدمه أو (ليصنع) (١) أو (ليقل) (٢) هكذا" (٣)، ثم بزق في طرف ثوبه، ثم رده عليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں تھوک پڑی دیکھی تو اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کسی نے تھوکنا ہو تو قبلے کی طرف اور دائیں جانب نہ تھوکے۔ بلکہ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو یوں کرلے۔ یہ فرما کر آپ نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور اسے مل دیا۔
٧٦٥٢ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي سعيد أن النبي ﷺ رأى نخامة في قبلة المسجد فحكها بعصاه (وقال) (٢): "إذا بزق أحدكم فلا يبزق بين يديه ولا عن يمينه وليبزق عن يساره" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک پڑی دیکھی تو اسے پتھر سے صاف کردیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کسی نے تھوکنا ہو تو سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب تھوکے۔
٧٦٥٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن ربعي عن طارق (بن) (١) عبد اللَّه المحاربي قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "إذا صليت فلا تبزق بين يديك ولا عن يمينك، ولكن ابزق عن يسارك أو تحت قدمك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن عبد اللہ محاربی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے یا دائیں طرف مت تھوکو بلکہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکو۔
٧٦٥٤ - حدثنا وكيع قال: نا الأعمش عن أبي وائل عن حذيفة، قال: إن العبد المسلم إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم قام يصلي أقبل اللَّه عليه بوجهه حتى يكون هو الذي ينصرف أو يحدث حدث سوء، فلا يبزق بين يديه ولا عن يمينه (فإن عن يمينه) (١) كاتب الحسنات، ولكن يبزق عن (يساره) (٢) أو خلف ظهره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے اور نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ جب تک وہ نماز سے فارغ نہ ہوجائے یا جب تک اسے حدث نہ لاحق ہوجائے۔ لہٰذا اسے اپنے سامنے اور اپنے بائیں طرف نہیں تھوکنا چاہئے کیونکہ دائیں طرف نیکیاں لکھنے والا فرشتہ ہے۔ بلکہ اسے چاہئے کہ بائیں طرف تھوکے یا اپنے پیچھے تھوکے۔
٧٦٥٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن أبي وائل عن حذيفة رفعه بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک سند کے مطابق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے۔
٧٦٥٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عدي بن ثابت عن زر عن حذيفة، قال: من صلى فبزق تجاه القبلة جاءت بزقته يوم القيامة في وجهه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے نماز پڑھتے ہوئے قبلہ کی جانب تھوکا قیامت کے دن اس کی تھوک اس کے منہ پر ملی جائے گی۔
٧٦٥٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن سوقة عن نافع عن ابن عمر ⦗٩٩⦘ قال: إذا بزق في القبلة جاءت (أحمى) (١) ما (تكون) (٢) يوم القيامة حتى تقع بين عينيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے قبلے کی طرف رخ کرکے تھوک پھینکی تو اس کی تھوک قیامت کے دن گرم کرکے اس کی آنکھوں کے درمیان ملی جائے گی۔
٧٦٥٨ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن يبزق الرجل (بين يديه) (١) في الصلاة أو عن يمينه وقال: (ابزق) (٢) عن يسارك أو تحت قدمك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی نماز پڑھتے ہوئے اپنے دائیں جانب یا سامنے کی جانب تھوکے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اپنے بائیں جانب تھوکو یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکو۔
٧٦٥٩ - حدثنا أزهر عن ابن عون، قال: كان محمد يكره أن يبزق الرجل تجاه القبلة وعن يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو مکروہ قرار دیتے ہیں کہ آدمی قبلہ کی جانب یا دائیں جانب تھوکے۔
٧٦٦٠ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن أنه كره أن يبزق تجاه القبلة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے قبلے کی جانب تھوکنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور حضرت ابن سیرین نے دونوں قبلوں (کعبہ اور بیت المقدس) کی طر ف تھوکنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٧٦٦٢ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي ﷺ أنه رأى نخامة في قبلة المسجد فحتها، (وقال) (٢): "إذا قام أحدكم في صلاة فلا يتنخم قبل وجهه فإن اللَّه قبل وجه أحدكم إذا كان في الصلاة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک لگی دیکھی تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے چہرے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کی طرف ہوتے ہیں۔
٧٦٦٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر عن النبي ﷺ بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔