٧٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عاصم عن (زر) (١) قال: رأيت عبد الرحمن بن عوف وأبي بن كعب إذا أذن المؤذن (المغرب) (٢) قاما فصليا ركعتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت ابی بن کعب کو دیکھا کہ وہ مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٧٥٧٧ - حدثنا الثقفي عن حميد عن أنس، قال: سئل عن الركعتين قبل المغرب، فقال: رأيتهم إذا أذن المؤذن ابتدروا السواري فصلوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضر ت انس سے مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ مغرب کی اذان کے بعد جلدی سے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٧٥٧٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى (بن) (١) عطاء عن أبي فزارة، قال: سألت أنسًا عن الركعتين قبل المغرب فقال: كنا نبتدرهما على عهد رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فزارہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم مغرب کی اذان کے بعد جلدی سے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٧٥٧٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم، قال: رأيت ابن أبي ليلى صلى ركعتين قبل المغرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ کو مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کرتے دیکھا ہے۔
٧٥٨٠ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان (عن حبيب) (١) بن أبي ثابت عن مجاهد عن ابن أبي ليلى، قال: (أدركت) (٢) أصحاب محمد ﷺ يصلون عند كل تأذين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا وہ ہر اذان کے وقت نماز پڑھا کرتے تھے۔
٧٥٨١ - حدثنا وكيع عن (كهمس) (١) عن ابن بريدة عن عبد اللَّه بن (المغفل) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بين كل أذانين صلاة من كل أذانين صلاة (بين كل أذانين صلاة) (٣) لمن شاء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، جو چاہے اس کے لئے۔
٧٥٨٢ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن ابن بريدة عن عبد اللَّه بن (المغفل) (١) عن النبي ﷺ مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٧٥٨٣ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم، قال: قال تميم بن سلام أو سلام بن تميم: للحسن ما تقول في الركعتين قبل المغرب؟ فقال: (حسنتان جميلتان) (١) لمن أراد اللَّه بهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلام یا سلام بن تمیم کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ آپ مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ بہت اچھی اور خوبصورت رکعتیں ہیں اس کے لئے جس کے لئے اللہ چاہے۔
٧٥٨٤ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب، قال: ما رأيت فقيهًا يصلي قبل المغرب إلا سعد بن أبي وقاص (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے علاوہ کسی فقیہ کو مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا۔
٧٥٨٥ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سمعت شيخًا بواسط يقول: سمعت طاوسًا (يقول) (١): سألت ابن عمر عن الركعتين قبل المغرب، فلم ينه عنهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ان سے منع نہیں فرمایا۔