٧٤٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن جريج قال: أخبرني أبو بكر عمن أخبره أن النبي ﷺ نهى أن يخمر الفم في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔
٧٤٩٢ - (وحدثني) (١) الثقفي (عن أيوب) (٢) عن محمد أنه كان يكره أن يغطي الرجل فاه وهو (يصلي) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد نماز میں منہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٧٤٩٣ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن منصور عن إبراهيم أنه كره أن يغطي (الرجل) (١) فمه وهو في صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز میں منہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٧٤٩٤ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن هلال بن يساف عن جعدة بن هبيرة أنه رأى رجلا يصلي وعليه مغفر وعمامة قد غطى بهما وجهه فأخذ بمغفره وعمامته فألقاهما من خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعدہ بن ہبیرہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اس کے سرپر ایک خود اور ایک عمامہ تھا جس سے انہوں نے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا۔ انہوں نے اس کا خود اور عمامہ پیچھے سے اتار لیا۔
٧٤٩٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء قال: سألته (عن) (١) تغطية الفم في الصلاة والطواف: فكرهه في الصلاة ورخص فيه في الطواف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ نماز اور طواف میں منہ ڈھانپنا کیسا ہے ؟ انہوں نے نماز میں اسے مکروہ قرار دیا اور طواف میں اس کی اجازت عطا فرمائی۔
٧٤٩٦ - حدثنا معن بن عيسى عن مالك بن أنس عن عبد الرحمن بن (المجبر) (١) أن سالم بن عبد اللَّه كان إذا رأى الرجل يغطي فاه وهو في الصلاة جبذ الثوب (جبذا) (٢) شديدا حتى ينزعه من فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن مجبر فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن عبد اللہ جب کسی آدمی کو نماز میں منہ ڈھانپے ہوئے دیکھتے تو اس کپڑے کو اتنے زور سے کھینچتے کہ اس کے منہ سے ہٹا دیتے۔
٧٤٩٧ - [حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن عطاء أنه (كره) (١) أن يغطي الرجل فمه في الصلاة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نماز میں منہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٧٤٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عمن سمع ابن أبي ليلى يقول مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ بھی یونہی فرماتے ہیں۔
٧٤٩٩ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن مسلم بن بديل أنه كان يكره أن يصلي هكذا، ووضع أزهر ثوبه على (شفتيه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ازہر ، حضرت ابن عون کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ حضرت مسلم بن بدیل اس طرح نماز پڑھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنا کپڑا اپنے ہونٹوں پر رکھا۔
٧٥٠٠ - حدثنا (وكيع) (١) قال: حدثنا بكير (بن) (٢) عامر عن إبراهيم والشعبي أنهما ىها أن يغطي الرجل فاه في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی نماز میں منہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔