کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے اور اس کے قائل تھے
٧١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع قال: (حدثنا) (٢) سفيان وشعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى عن البراء أن النبي ﷺ قنت في الفجر والمغرب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر اور مغرب کی نماز میں د عائے قنوت پڑھی ہے۔
٧١٨٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (فطر) (١) عن عطاء أن رسول اللَّه ﷺ قنت في الفجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے۔
٧١٨٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن شيخ لم يسمه أن أبا بكر قنت في الفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر نے فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے۔
٧١٨٤ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا سفيان) (١) عن أبي حصين عن (عبد الرحمن) (٢) بن (معقل) (٣) قال: قنت في الفجر رجلان من أصحاب النبي ﷺ علي (وأبو) (٤) موسى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن معقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صحابہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ نے فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے۔
٧١٨٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع (عن) (١) أنس (٢) أن النبي ﷺ قنت في الفجر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے۔
٧١٨٦ - حدثنا هشيم عن عوف عن أبي رجاء (العطاردي) (١) قال: رأيت ابن عباس يمد بضبعيه في قنوت صلاة الغداة (إذ) (٢) كان بالبصرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ کے قیام کے دوران فجر میں د عائے قنوت پڑھتے ہوئے ہاتھوں کو بہت زیادہ بلند کیا کرتے تھے۔
٧١٨٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو الأشهب جعفر بن (حيان) (١) وقرة بن خالد سمعاه من أبي رجاء العطاردي قال: صلى بنا ابن عباس الفجر بالبصرة فقنت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں دعائے قنوت پڑھی۔
٧١٨٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن عبد الملك بن ميسرة (الزراد) (١) عن زيد بن وهب قال: ربما قنت عمر في صلاة الفجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بعض اوقات فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
٧١٨٩ - حدثنا شريك عن زبيد (عن) (١) ابن أبي ليلى قال: القنوت سنة ماضية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا ایک جاری سنت ہے۔
٧١٩٠ - (حدثنا) (١) وكيع عن سفيان (عن) (٢) زبيد بن الحارث (اليامي) (٣) قال: سألت ابن أبي ليلى عن القنوت في الفجر فقال: سنة ماضية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید بن حارث یامی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی لیلیٰ سے فجر کی نماز میں قنوت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ایک جاری سنت ہے۔
٧١٩١ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) يزيد بن (إبراهيم) (٢) عن ابن سيرين أنه قال: القنوت في الفجر هنيهة أو ساعة أو كلمة تشبهها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز میں دعائے قنوت کچھ عرصے کے لئے ہے۔
٧١٩٢ - (حدثنا) (١) (ابن) (٢) مهدي عن سفيان (عن) (٣) محارب (عن) (٤) عبيد ابن البراء ((عن) (٥) البراء) (٦) أنه كان يقنت في الفجر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ بن براء فرماتے ہیں کہ حضرت براء فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔
٧١٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: سمعت وكيعًا يقول: سمعت سفيان يقول: من قنت فحسن، ومن لم يقنت فحسن، ومن قنت فإنما القنوت على الإمام، وليس على من وراءه قنوت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ جس نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ پڑھی اس نے بھی اچھا کیا۔ اگر کسی نے قنوت پڑھنی ہی ہے تو قنوت پڑھنا امام کا کام ہے مقتدیوں کا نہیں۔