٦٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو بكر بن عياش ومحمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: إمام القوم ضامن فلا يخص نفسه بشيء من الدعاء دونهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ امام لوگوں کا ضامن ہے، لہٰذا وہ لوگوں کو چھوڑ کر اپنی ذات کے لئے دعا نہ مانگے۔
٦٦٩٤ - حدثنا ابن علية عن خالد الحذاء (قال) (١): قال أبو قلابة: تدري لم كرهت الإمامة؟ قال: لا، ولكنها كرهت أنه ليس لإمام أن يخص نفسه بدعاء من دون من وراءه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ نے ایک مرتبہ خالد حذاء سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ امامت کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ امام کے لئے یہ بات مکروہ ہے کہ امام لوگوں کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی خاص دعا کرے۔
٦٦٩٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: (يكره) (١) أن يخص الإمام نفسه بشيء من دون أصحابه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام کے لئے مکروہ ہے کہ وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے۔
٦٦٩٦ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن هارون بن إبراهيم قال: قلت لابن سيرين: للإمام أن يخص (نفسه) (١) بشيء من الدعاء؟ قال: لا، فليدع لهم كما يدعو لنفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہارون بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے کہا کہ کیا امام صرف اپنی ذات کے لئے دعا کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، ان کے لئے بھی وہی دعا کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔
٦٦٩٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ليث عن طاوس ومجاهد (قالا) (١): لا (ينبغي) (٢) للإمام أن يخص نفسه بدعاء (من) (٣) دون القوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ امام کے لئے مناسب نہیں کہ امام لوگوں کو چھوڑ کر اپنی ذات کے لئے کوئی دعا کرے۔
٦٦٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن كردوس عن عبد اللَّه أنه كان يكره إذا كان الرجل في القوم أن يخص نفسه بشيء من الدعاء دونهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ امام کے لئے مکروہ ہے کہ وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے۔