کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان گفتگو کرنا مکروہ ہے
٦٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن مجاهد قال: رأى ابن مسعود رجلًا يكلّم آخر بعد (١) ركعتي الفجر فقال: إما أن (تذكر) (٢) اللَّه وإما أن (تسكت) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے فجر کی سنتوں کے بعد ایک آدمی کو دوسرے سے باتیں کرتے دیکھا تو فرمایا کہ یا تو اللہ کا ذکر کرو یا خاموش رہو۔
٦٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة قال: ما من أحد أكره إليه الكلام بعد ركعتي الفجر حتى يصلي الغداة من ابن مسعود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ فجر کی سنتوں کے بعد گفتگو کی ناپسندیدگی میں حضرت ابن مسعود سے بڑھ کر کوئی نہ تھا۔
٦٥٥٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن (عمرو) (١) بن مرة عن أبي عبيدة قال: كان عبد اللَّه يعز عليه أن يسمع متكلمًا بعد الفجر -يعني بعد الركعتين- إلا بالقرآن أو بذكر اللَّه حتى يصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کو فجر کی دو سنتوں کے بعد سے لے کر فرضوں تک تلاوت اور ذکر اللہ کے علاوہ کوئی بات کرنا انتہائی ناپسند تھا۔
٦٥٥٩ - حدثنا (معمر) (١) بن سليمان (الرقي) (٢) عن خصيف عن سعيد بن جبير أنه كان يكره الكلام بعد ركعتي الفجر إلا أن يذكر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فجر کی سنتوں کے بعد ذکر اللہ کے علاوہ کسی کلام کو ناپسند فرماتے تھے۔
٦٥٦٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا [سفيان عن خصيف قال: سألت سعيد بن جبير] (١) عن آية بعد ركعتي الفجر، فلم يجبني. فلمّا صلّى قال: إن الكلام يكره بعدهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے فجر کی دو سنتوں کے بعد ایک آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ جب انہوں نے فجر کی نماز پڑھ لی تو فرمایا کہ ان دو سنتوں کے بعد کلام کرنا مکروہ ہے۔
٦٥٦١ - حدثنا أبو بكر (بن) (١) عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا تكلم بعد ركعتي الفجر (٢) إلا أن تكون لك حاجة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ فجر کی دو سنتوں کے بعد صرف ضرورت کا کلام کرو۔
٦٥٦٢ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون الكلام بعد ركعتي الفجر قال: قلت لإبراهيم: قول الرجل لأهله الصلاة، قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف فجر کی سنتوں کے بعد کلام کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ آدمی کا اپنے گھر والوں کو نماز کا کہنا بھی کلام ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٦٥٦٣ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف نے فجر کی سنتوں کے بعد کلام کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٦٥٦٥ - حدثنا (١) عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن (قرظة) (٢) عن مجاهد قال: رأيت ابن عمر صلى ركعتي الفجر ثم احتبى فلم يتكلم حتى صلى الغداة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر حبوہ بنا کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے فرضوں کی ادائیگی تک کسی سے بات نہیں کی۔
٦٥٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد هل (يفرق) (١) بين صلاة الفجر وبين الركعتين قبلهما بكلام؟ قال: لا. إلا أن يتكلم بحاجة إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ کیا فجر کے فرضوں اور سنتوں کے درمیان کلام کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ صرف اور صرف ضرورت کی بات کی جاسکتی ہے۔