کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: حاملہ عورت کو اگر خون محسوس ہو تو وہ نماز پڑھے گی یا نہیں؟
٦١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) خالد بن الحارث وعبدة بن سليمان عن سعيد عن (مطر) (٢) عن عطاء عن عائشة في الحامل ترى الدم لا يمنعها ذلك من الصلاة (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر حاملہ کو خون نظر آئے تو وہ نماز نہیں چھوڑے گی۔
٦١٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جامع بن أبي راشد عن عطاء في الحامل ترى الدم قال: (تتوضأ) (١) وتصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس عورت کے بارے میں جسے حالت حمل میں خون نظر آئے فرماتے ہیں کہ وہ وضو کرے گی اور نماز پڑھے گی۔
٦١٨٦ - حدثنا (إسماعيل) (١) عن أيوب قال: كتبت إلى نافع أسأله عن الحامل ترى الدم فكتب إلى: سألت سليمان بن يسار عن المرأة ترى الدم في غير حيض ولا نفاس، (فقال) (٢): تغتسل وتستثفر (٣) بثوب وتصلي.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو خط لکھا اور ان سے اس حاملہ کے بارے میں سوال کیا جسے خون نظر آئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے سوال کیا کہ اگر اسے حالت حیض اور حالت نفاس کے علاوہ کوئی خون نظر آئے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ غسل کرے، کسی کپڑے سے خون روکے اور نماز پڑھے۔
٦١٨٧ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن الشعبي وعطاء في الحبلى ترى الدم عبيطا تغتسل وتصلي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت عطاء اس حاملہ کے بارے میں جو خالص خون دیکھے فرماتے ہیں کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔
٦١٨٨ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في (الحامل) (١) ترى الدم، قال: تصنع كما تصنع المستحاضة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس حاملہ کے بارے میں جو خون دیکھے فرماتے ہیں کہ یہ وہی کچھ کرے گی جو مستحاضہ کرتی ہے۔
٦١٨٩ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن في الحامل ترى الدم، قال: إن كانت تراه (كما كانت (تراه)) (١) (٢) قبل ذلك في أقرائها تركت الصلاة، وإن كان إنما هو في اليوم واليومين لم تدع الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس حاملہ کے بارے میں جو خون دیکھے فرماتے ہیں کہ اگر اسے وہی صورت محسوس ہو جو حیض کی حالت میں معلوم ہوتی تھی تو نماز کو چھوڑ دے اور اگر یہ ایک یا دو دن رہے تو وہ نماز نہ چھوڑے۔
٦١٩٠ - حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن الحكم عن الحكم عن إبراهيم قال: إذا رأته وهي حبلى فلتوضأ ولتصل فإنه ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر عورت حالت حمل میں خون دیکھے تو وضو کرے اور نماز پڑھے، کیونکہ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔
٦١٩١ - [حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن شعبة عن الحكم في الحامل ترى الدم، قال: ليس بشيء] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اس حاملہ کے بارے میں جو خون دیکھے فرماتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں، حضرت حماد فرماتے ہیں کہ یہ مستحاضہ کے درجے میں ہے۔
٦١٩٣ - حدثنا ابن مهدي عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل جابر بن زيد عن الحامل ترى الدم أيمنعها ذلك من الصلاة؟ فقال (١): إنما يمنع من الصلاة، والصوم الحيض، وهذا (الغيض) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ھرم فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر عورت حالت حمل میں خون دیکھے تو کیا وہ نماز چھوڑ دے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز اور روزے سے صرف حیض روکتا ہے یہ تو غیض (کمی ونقصان) ہے۔
٦١٩٤ - حدثنا زيد بن حباب عن مالك بن أنس قال: سألت الزهري عن الحامل ترى الدم قال: (ذا الدم) (١) (تكف) (٢) عن الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے اس حاملہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ نماز چھوڑ دے گی۔
٦١٩٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن مندل عن (١) أبي إسحاق عن عكرمة والحكم وحماد قالوا: لا يجتمع حبل وحيض، فإذا رأت الحامل الدم (فلتصل) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ، حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ حمل اور حیض جمع نہیں ہوسکتے، جب حاملہ خون دیکھے تو نماز پڑھے۔