٥٩٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن ⦗٢٤٥⦘ عبد الرحمن ابن عابس عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخرج بناته (ونساءه) (١) إلى العيدين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی صاحبزادیوں اور ازواج کو عید کے لئے بھیجتے تھے۔
٥٩١٠ - حدثنا حفص عن الحسن (بن) (١) عبيد اللَّه عن طلحة (اليامي) (٢) قال: قال أبو بكر (٣): حق على كل ذات نطاق الخروج إلى العيدين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ہر بالغ پر عید کے لئے نکلنا ضروری ہے۔
٥٩١١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: حق على كل ذات نطاق أن تخرج إلى العيدين، ولم (يكن) (١) يرخص (لهن) (٢) في شيء من الخروج إلا (٣) إلى العيدين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر بالغ پر عدی کے لئے نکلنا ضروری ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ عورتوں کو صرف عیدین کی نماز کے لیے نکلنے کی اجازت دیتے تھے۔
٥٩١٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال: كان عبد اللَّه بن عمر يخرج إلى (العيدين) (١) من استطاع من أهله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے گھر والوں میں سے جس کو عید کے لئے بھیج سکتے تھے، بھیج دیتے تھے۔
٥٩١٣ - حدثنا عبد الأعلى عن خالد عن أبي قلابة قال: قالت عائشة: قد كانت (الكعاب) (١) تخرج لرسول اللَّه ﷺ من (خدرها) (٢) في الفطر والأضحى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نوجوان لڑکیاں عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھنے کے لئے اپنے پردے سے نکل آتی تھیں۔
٥٩١٤ - حدثنا يحيى بن سليم (عن) (١) ابن جريج عن مجاهد في قوله: ﴿وَكَوَاعِبَ﴾ [النبأ: ٣٣]، قال: نواهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد لفظ ” کو اعب “ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لڑکیاں ہیں جن کی چھاتی میں ابھار ہو۔
٥٩١٥ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن عبد الرحمن بن الأسود أن علقمة والأسود كانا يخرجان (نساءهما) (١) في العيدين (ويمنعونهنّ) (٢) من الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود عیدین کے لئے عورتوں کو بھیجا کرتے تھے اور جمعہ سے انہیں منع کرتے تھے۔
٥٩١٦ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: إن كانت امرأة أبي ميسرة (لتخرج) (١) إلى العيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ابو میسرہ کی اہلیہ عید کی نماز کے لئے جایا کرتی تھیں۔
٥٩١٧ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان لعلقمة امرأة (قد دخلت) (١) في السن تخرج إلى العيدين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ کی ایک ادھیڑ عمراہلیہ عید کی نماز کے لئے جاتی تھیں۔
٥٩١٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن حفصة عن أم عطية قالت: أمرنا رسول اللَّه ﷺ أن (نخرجهن) (١) يوم الفطر ويوم النحر قالت أم عطية: ⦗٢٤٧⦘ (فقلنا) (٢): أرأيت إحداهن لا يكون لها [جلباب؟ قال: (فتلبسها) (٣) اختها من (جلبابها) (٤)] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز کے لئے جایا کریں۔ حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ اگر کسی عورت کے پاس بڑی چادر نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی بہن اسے اپنی چادر اوڑھا دے۔