کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات عیدین کی نمازوں میں عورتوں کی حاضری کو مکر وہ خیال فرماتے ہیں
٥٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) جرير عن منصور عن إبراهيم قال (٢): يكره خروج النساء في العيدين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عیدین میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
٥٩٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن جابر عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يخرج نساءه في العيدين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے لئے اپنی عورتوں کو نہ بھیجتے تھے۔
٥٩٢١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان لا يدع امرأة من أهله تخرج إلى (فطر) (١) ولا إلى أضحى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ عید الاضحی اور عید الفطر کے لیے اپنی عورتوں کو نہ جانے دیتے تھے۔
٥٩٢٢ - (حدثنا) (١) أبو داود عن قرة قال: حدثنا عبد الرحمن بن القاسم ⦗٢٤٨⦘ قال: كان القاسم أشد شيء (على العواتق) (٢) لا يدعهن يخرجن في الفطر والأضحى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم کنواری لڑکیوں کے بارے میں بہت سختی کرتے تھے اور انہیں عید الفطر اور عید الاضحی کے لئے نہ جانے دیتے تھے۔
٥٩٢٣ - حدثنا وكيع (عن) (١) حسن بن صالح عن منصور عن إبراهيم قال: كره للشابة أن تخرج إلى العيدين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نوجوان عورت کے لئے عیدین کے لئے جانا مکروہ ہے۔