کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں نماز لوٹائی جائے گی
٣٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن هشام عن محمد قال: صلى حميد بن عبد الرحمن في منزلنا فقلت له: إن في قبلتنا تياسرا، (فأعاد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضر تحمید بن عبد الرحمن نے ہمارے گھر میں نماز پڑھی، میں نے ان سے کہا کہ قبلہ تو ہماری بائیں طرف تھا، یہ سن کر انہوں نے دوبارہ نماز پڑھی۔
٣٤٢٦ - حدثنا روح بن عبادة عن زكريا بن إسحاق عن هشام بن حُجير عن طاوس قال: يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا۔
٣٤٢٧ - حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: من صلى (إلى) (١) غير القبلة فاستفاق وهو في وقت فعليه الإعادة، وإن لم يكن في وقت فليس عليه الإعادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں جس شخص نے قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کرکے نماز پڑھی، اب اگر اسے وقت میں اپنی غلطی کا علم ہوجائے تو دوبارہ نماز پڑھے اور اگر وقت کے بعد معلوم ہو تو اعادہ ضروری نہیں۔
٣٤٢٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ربيع عن الحسن قال: (يعيد) (١) ما (دام) (٢) في وقت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نماز کا وقت ہو تو اعادہ کرے گا۔