کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ کتے ، عورت اور گدھے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
٢٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال؛ (نا) إسماعيل بن علية عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا لم يكن بين يديه مثل (آخرة) (١) الرحل فإنه يقطع صلاته المرأة والحمار والكلب الأسود" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی آدمی کے آگے کجاوے کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھے اور کالے کتے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ راوی حضرت عبد اللہ بن صامت فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے ابو ذر ! کالے کتے، لال کتے اور پیلے کتے میں کیا فرق ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ کالا کتا شیطان ہے۔
٢٩٢٥ - قال: قلت: يا أبا ذر (ما) (١) بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر؟ فقال: يا ابن أخي إني سألت رسول اللَّه ﷺ كما سألتني فقال: "الكلب الأسود شيطان" (٢).
٢٩٢٦ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: الكلب الأسود البهيم شيطان وهو يقطع الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کالا کتا شیطان ہے وہ نماز کو توڑ دیتا ہے۔
٢٩٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن ليث عن مجاهد عن معاذ مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ سے بھی یونہی منقول ہے۔
٢٩٢٨ - حدثنا أبو داود وغندر عن شعبة عن (عبيد اللَّه بن أبي بكر) (١) قال: سمعت أنسا يقول: يقطع الصلاة المرأة والحمار والكلب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت، گدھے اور کتے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
٢٩٢٩ - حدثنا أبو داود وغندر عن شعبة عن زياد بن فياض عن أبي الأحوص مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص سے بھی یونہی منقول ہے۔
٢٩٣٠ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول قال: يقطع صلاة الرجل: المرأة، والحمار، والكلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ مرد کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گذرے سے ٹوٹ جاتی ہے۔
٢٩٣١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) عن قتادة قال: قال ابن عباس: يقطع الصلاة الكلب الأسود والمرأة الحائض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کالے کتے اور حائضہ کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
٢٩٣٢ - حدثنا معتمر بن سليمان (عن سلم) (١) عن الحسن قال: يقطع الصلاة: الكلب، والمرأة، والحمار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کتے، عورت اور گدھے کے گذرنے سے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
٢٩٣٣ - حدثنا أبو داود عن هشام عن يحيى عن عكرمة قال: (١) يقطع الصلاة: الكلب، والمرأة، (والخنزير) (٢)، والحمار، واليهودي، والنصراني، والمجوسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ کتے، عورت، خنزیر، گدھے، یہودی ، عیسائی اور مجوسی کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
٢٩٣٤ - حدثنا أبو داود عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه قال: يقطع الصلاة: الكلب. قيل له: فالمرأة؟ قال: لا؛ إنما هن شقائقكم أخواتكم وأمهاتكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کتے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ کسی نے پوچھا کیا عورت کے گذرنے سے بھی ٹوٹتی ہے ؟ فرمایا نہیں ، وہ تو تمہاری جنس کا حصہ ہیں، وہ تمہاری بہنیں اور مائیں ہیں۔
٢٩٣٥ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن بكر: أن ابن عمر أعاد ركعة (١) من جرو مر بين يديه في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز کے دوران حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آگے سے کتے کا پلّا گذرا تو انہوں نے اس رکعت کو دوبارہ پڑھا۔
٢٩٣٦ - (حدثنا) (١) شبابة عن هشام بن الغاز قال: سمعت عطاء يقول: لا يقطع الصلاة إلا الكلب الأسود والمرأة الحائض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کالے کتے اور حائضہ عورت کے علاوہ کسی چیز کے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔