کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے سے نماز تو نہیں نوٹتی لیکن جہاں تک ہو سکے اسے روکنا چاہئے
٢٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو (أسامة) (١) عن مجالد عن أبي الوداك (٢) عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يقطع الصلاة شيء وادرأوا ما استطعتم فإنه شيطان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی لیکن جہاں تک ہوسکے اسے روکو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔
٢٩١٢ - حدثنا عبدة ووكيع عن سعيد عن قتادة عن ابن المسيب عن علي وعثمان قالا: لا يقطع الصلاة شيء وادرأوهم عنكم ما استطعتم (١).
مولانا محمد اویس سرور
١) حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی لیکن جہاں تک ہوسکے اسے روکو۔
٢٩١٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم: أن (ابن) (١) عمر قيل له: إن عبد اللَّه بن عياش بن أبي ربيعة يقول: (يقطع) (٢) الصلاة الحمار والكلب، فقال: لا يقطع صلاة المسلم شيء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ کہتے ہیں کہ گدھے اور کتے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان کی نماز کوئی چیز نہیں توڑتی۔
٢٩١٤ - حدثنا أبو معاوية عن (عبيد اللَّه) (١) (بن عمر) (٢) عن نافع عن ابن عمر قال: لا يقطع الصلاة شيء، وذبوا عن أنفسكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی اور اپنے نفسوں کو ہلکا رکھو۔
٢٩١٥ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس قال: جئت أنا والفضل على أتان، والنبي ﷺ يصلي بالناس بعرفة فمررنا على بعض الصف فنزلنا وتركناها ترتع فلم يقل لنا شيئا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت فضل ایک گدھی پر سوار تھے، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم ایک صف کے آگے سے گذرے اور ہم نے گدھی سے اتر کر اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے اس بارے میں کوئی بات نہ فرمائی۔
٢٩١٦ - حدثنا ابن عيينة عن عبد الكريم قال: سألت (سعيد) (١) بن المسيب، فقال: لا يقطع الصلاة إلا الحدث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نماز سوائے وضو ٹوٹنے کے کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی۔
٢٩١٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن الزبرقان عن كعب بن عبد اللَّه عن حذيفة قال: لا (يقطع) (١) الصلاة (شيء) (٢) (وادرأوا ما استطعتم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی، البتہ تم سے جہاں تک ہوسکے گذرنے والے کو روکو۔
٢٩١٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن خيثمة قال: سمعته يحدث عن الأسود عن عائشة أنها قالت: لا يقطع الصلاة شيء إلا الكلب الأسود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نماز سوائے کالے کتے کے کسی چیز کے گذرنے سے نہیں ٹوٹتی۔
٢٩١٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه قال: كان يقول: لا يقطع الصلاة شيء إلا الكفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرمایا کرتے تھے کہ نماز سوائے کفر کے کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی۔
٢٩٢٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حنظلة عن القاسم قال: لا يقطع الصلاة شيء، اللَّه أقرب كل شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اللہ تعالیٰ ہرچیز سے زیادہ قریب ہے۔
٢٩٢١ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة: أن النبي ﷺ كان يصلي من الليل وأنا معترضة بينه وبين القبلة كاعتراض الجنازة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی جس طرح جنازہ پڑا ہو۔
٢٩٢٢ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن طاوس عن ابن عباس (قال) (١): اعزلوا صلاتكم ما استطعتم، وأشد ما (يتقى) (٢) عليها مرابض الكلاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم سے جہاں تک ہوسکے اپنے آگے سے گذرنے والوں کو روکو، نماز میں سب سے زیادہ جن چیزوں کے گذرنے سے احتیاط لازم ہے ان میں کتے سرفہرست ہیں۔
٢٩٢٣ - حدثنا ابن فضيل عن زكريا عن الشعبي قال: لا يقطع الصلاة شيء، ولكن ادرأوا عنها ما استطعتم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نماز کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی البتہ تم سے جہاں تک ہوسکے گذرنے والوں کو روکو۔