٢٦٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حسين المكتب عن (بديل) (١) عن أبي الجوزاء عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ إذا ركع لم يشخص رأسه ولم يصوبه، كان بين ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو رکوع میں سر کو نہ زیادہ جھکاتے تھے نہ بالکل سیدھا رکھتے تھے، بلکہ ان دونوں کیفیات کے درمیان رکھتے تھے۔
٢٦٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن عثمان عن رجل من ثقيف قال: سألت أبا هريرة فقال: (اتق) (١) (الحنوة) (٢) في الركوع والحدبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک ثقیفی شخص کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے رکوع کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رکوع میں کمر کو کمان بنا کر سر کو جھکانے سے اور کمر کو بلند کرنے سے بچو۔
٢٦١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن الجريري عن أبي نضرة عن كعب قال: إذا ركعت فانصب وجهك للقبلة، وضع يديك على ركبتيك، ولا تُدَبِّحْ ⦗٥٥⦘ كما يُدَبِّحُ الِحمَارُ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب تم رکوع کرو تو اپنے چہرے کو قبلے کی طرف رکھو اور دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھو۔ اور سر کو اتنا زیادہ نہ جھکاؤ کہ وہ گدھے کے سر کی طرح کمر سے نیچے چلا جائے۔
٢٦١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم: أنه كان يكره أن يرفع (الرجل) (١) رأسه إذا كان راكعا أو يصوبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم اس بات کو ناپسند خیال فرماتے تھے کہ آدمی رکوع میں سر کو بہت بلند کرے یا بالکل سیدھا کرلے۔
٢٦١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) إدريس عن عثمان بن الأسود عن مجاهد: أنه كان كان يكره التحادب في الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رکوع کرتے ہوئے کمر کو قوس کی طرح جھکانے کو ناپسند خیال فرماتے تھے۔
٢٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ بن معاذ عن حبيب بن الشهيد قال: سمعت (محمد بن سيرين) (١) يقول: الركوع هكذا، ووصف معاذ: أنه يسوي ظهره لا يصوب رأسه ولا يرفعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن شہید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین کو فرماتے ہوئے سنا کہ رکوع اس طرح ہوتا ہے۔ پھر حضرت معاذ نے اس کی یہ صورت بیان فرمائی کہ آدمی کمر کو بالکل سیدھا رکھے، اس طرح کہ سر کو نہ تو بالکل سیدھا رکھے اور نہ ہی بلند کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو بھی یونہی فرماتے سنا ہے، البتہ حسن اس بارے میں کلام کیا کرتے تھے۔
٢٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان النبي ﷺ إذا ركع لو (صببت) (١) على كتفيه ماء لاستقر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کی حالت میں ہوتے تو ایسی کیفیت ہوتی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان پانی ڈال دیا جاتا تو وہ ڈھلوان نہ ہونے کی وجہ سے وہیں ٹھہر جاتا۔