کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: رکوع اور سجدہ کرنے میں کتنی مقدار کفایت کر سکتی ہے؟
❮
❯
٢٥٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن (الجعد) (١) رجل من أهل المدينة عن ابنة (لسعد) (٢): أنها كانت تفرط في الركوع تطأطؤًا (منكرا) (٣) فقال لها سعد: إنما يكفيك إذا وضعت يديك على ركبتيك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مدنی شخص بتاتے ہیں کہ حضرت سعد کی صاحبزادی رکوع میں حد سے زیادہ جھکنے کی عجیب کوشش کیا کرتی تھیں۔ حضرت سعد نے ان سے فرمایا کہ تمہارے لئے اتنا کافی ہے کہ تم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2599
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2599، ترقيم محمد عوامة 2592)
٢٦٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن (جويبر) (١) عن الضحاك عن ابن مسعود قال: إذا مكن الرجل يديه من ركبتيه، والأرض (من) (٢) جبهته فقد أجزأه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جب رکوع میں آدمی اپنے ہاتھ گھٹنوں پر اور سجدے میں اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے تو یہ ارکان ادا ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2600
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ لحال جويبر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2600، ترقيم محمد عوامة 2593)
٢٦٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأعمش عمن سمع محمد بن علي يقول: يجزئه من الركوع إذا وضع يديه على ركبتيه، ومن السجود إذا وضع جبهته على الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا اور سجدے میں اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دے تو یہ ارکان ادا ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2601
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2601، ترقيم محمد عوامة 2594)
٢٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن أبي مالك عن سعد بن عبيدة عن (ابن) (١) عمر قال: إذا وضع الرجل جبهته (بالأرض) (٢) أجزأه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے تو یہ کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2602
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2602، ترقيم محمد عوامة 2595)
٢٦٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن ابن عون عن ابن سيرين قال: يجزئ من الركوع إذا أمكن يديه من ركبتيه، ومن السجود إذا أمكن جبهته (من) (١) الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ رکوع میں اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر اور سجدے میں اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دے تو یہ ارکان ادا ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2603
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2603، ترقيم محمد عوامة 2596)
٢٦٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن (ابن) (١) أبي عروبة عن يعلي بن حكيم قال: قال طاوس وعكرمة وأظق عطاء ثالثهم: إذا (أمكن) (٢) جبهته من الأرض فقد قضى ما عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس، حضرت عکرمہ اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب پیشانی کو زمین پر رکھ دیا تو فرض ادا ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2604
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2604، ترقيم محمد عوامة 2597)
٢٦٠٥ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن الحسن بن عبيد اللَّه عن المسيب به. رافع قال: إذا وضع جبهته (من) (١) الأرض فقد أجزأه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ جب پیشانی کو زمین پر رکھ دیا تو فرض ادا ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2605
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2605، ترقيم محمد عوامة 2598)
٢٦٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن معقل بن عبيد اللَّه (١) قال: سألت عطاء عن أدنى ما يجوز من الركوع والسجود فقال: إذا وضع جبهته على الأرض، ووضع يديه على ركبتيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے رکوع و سجود کی ادنیٰ مقدار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب پیشانی کو زمین پر اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ دیا تو یہ ارکان ادا ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2606
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2606، ترقيم محمد عوامة 2599)
٢٦٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثت (عن ابن عيينة) (١) عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: إذا وضع يديه على ركبتيه أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ دیا تو رکوع ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2607
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2607، ترقيم محمد عوامة 2600)