٢٣٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ليث عن طاوس عن عائشة أنها كانت تؤذن وتقيم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اذان اور اقامت کہا کرتی تھیں۔
٢٣٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن ليث عن عطاء عن عائشة مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٢٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن ابن عجلان عن وهب بن كيسان قال: سئل ابن عمر: هل على النساء أذان؟ فغضب، وقال: أنا أنهى عن ذكر اللَّه! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا عورتوں پر اذان لازم ہے ؟ یہ سوال سن کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما غصہ میں آگئے اور فرمایا کہ کیا اللہ کے ذکر سے منع کروں ؟ !
٢٣٤٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عليه عن هشام (١) عن حفصة قال: إنها كانت تقيم إذا صلت] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ جب نماز پڑھنے لگتیں تو اقامت کہتی تھیں۔
٢٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن يعلى الأسلمي وابن يمان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: (ليس) (١) على النساء إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اقامت لازم نہیں۔
٢٣٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن ليت عن (عطاء وطاووس) (١) أن عائشة كانت تؤذن وتقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اذان اور اقامت کہا کرتی تھیں۔
٢٣٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن يمان عن سقيان عن جابر عن سالم قال (١): إن شئن أذِّن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ عورتیں اگر چاہیں تو اذان دے دیں۔
٢٣٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا مالك بن إسماعيل قال: نا هريم عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: تقيم المرأة إن شاءت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ عورت اگر چاہے تو اذان دے دے۔