٢٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن هشام عن الحسن ومحمد بن سيرين (قالا) (١): ليس على النساء أذان ولا إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین اور حسن فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان اور اقامت لازم نہیں۔
٢٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن عبد الملك عن عطاء قال: ليس على النساء أذان ولا إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان اور اقامت لازم نہیں۔
٢٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم. - وعن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالوا: ليس على النساء أذان ولا إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب اور حسن فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان اور اقامت لازم نہیں۔
٢٣٣٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم قال: ليس على النساء أذان ولا إقامة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان اور اقامت لازم نہیں۔
٢٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب اور حسن فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان اور اقامت لازم نہیں۔
٢٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: كانا نسأل أنسا هل على النساء أذان وإقامة؟ قال: لا، وإن فعلن فهو ذكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس سے سوال کیا کرتے تھے کہ کیا عورتوں پر اذان اور اقامت لازم ہے ؟ وہ فرماتے کہ لازم تو نہیں البتہ اگر کرلیں تو ان کے لیے بمنزلہ ذکر کے ہے۔
٢٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبد ربه عن امرأة من أهل مكة قالت: قلت لجابر بن زيد: هل عليَّ إقامة؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
ایک مکی خاتون بتاتی ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے پوچھا کہ کیا اقامت میرے ذمے لازم ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
٢٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن معمر عن الزهري قال: ليس على النساء أذان ولا إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان و اقامت لازم نہیں۔
٢٣٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن يمان عن ابن أبي ذئب عن رجل عن علي قال: (لا تؤذن ولا تقيم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت نہ اذان دے گی نہ اقامت کہے گی۔
٢٣٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (حرمي) (١) بن عمارة عن غالب بن سليمان عن الضحاك قال: ليس على النساء أذان ولا إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ عورتوں پر اذان و اقامت لازم نہیں۔