کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی اگر گھر میں نماز پڑھے تو وہ اذان اور اقامت کہے گا یا نہیں؟
٢٣٠٤ - حدثنا وكيع عن (أبي عاصم الثقفي) (١) قال: نا عطاء قال: دخلت مع علي بن الحسين على جابر بن عبد اللَّه قال: فحضرت الصلاة فأذن وأقام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔
٢٣٠٥ - حدثنا أزهر السمان عن ابن عون قال: كان محمد يصلي في بيته بإفامة الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد گھر میں اقامت کے ساتھ نماز پڑھاتے تھے۔
٢٣٠٦ - حدثنا كثير بن هشام (عن جعفر) (١) (عن) (٢) (ميمون) (٣) قال: إذا صلى الرجل في بيته كفته الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ آدمی جب اپنے گھر میں نماز پڑھے تو اقامت کافی ہے۔
٢٣٠٧ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يصلي في بيته على غير إقامة، قال: إن أقام (فهو أفضل) (١)، فإن لم يفعل أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص گھر میں نماز پڑھ رہا ہو تو اقامت کہنا بہتر ہے اگر نہ بھی کہے تو جائز ہے۔
٢٣٠٨ - حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: بلغنا أن (رجالًا) (١) من أصحاب النبي ﷺ أحدهم إذا صلى في داره أذن بالأولى، والإقامة في كل صلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ کچھ صحابہ کرام جب گھر میں نماز پڑھتے تو فجر میں اذان کہتے تھے باقی نمازوں میں صرف اقامت پر اکتفاء فرماتے تھے۔