کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو آدمی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے اس کا کیا حکم ہے؟
٢٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: نا حماد بن سلمة عن قيس بن سعد عن عطاء -فيمن نسي المضمضة في الوضوء، (أو) (١) الاستنشاق- قال: يمضمض، ويستنشق، ويعيد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو کیا کرے ؟ فرمایا کلی کرے، ناک میں پانی ڈالے اور دوبارہ نماز پڑھے۔
٢٠٧٧ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن عائشة بنت عجرد عن ابن عباس قال: إذا صلى الرجل، فنسي أن يمضمض، ويستنشق من جنابة، أعاد المضمضة، والاستنشاق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آدمی غسل جنابت کرتے ہوئے کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو دوبارہ کلی کر کے اور ناک میں پانی ڈال کر نماز پڑھے۔
٢٠٧٨ - حدثنا ابن مبارك عن مثنى عن عطاء -فيمن نسي المضمضة، والاستنشاق حتى صلى، قال: ليس عليه إعادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے اور نماز پڑھ لے تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے۔
٢٠٧٩ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن في الرجل ينسى المضمضة قال: إن كان في دخل في الصلاة، فليمض، وإن لم يكن دخل في الصلاة؛ فليمضمض؛ ويستنشق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے بارے میں جو کلی کرنا بھول جائے فرماتے ہیں کہ اگر اس نے نماز شروع کردی تو جاری رکھے اور اگر ابھی شروع نہیں کی تو کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے۔
٢٠٨٠ - [حدثنا عباد بن العوام عن عمر بن (عامر) (١) عن حماد عن إبراهيم قال: يعيد الرجل الصلاة من نسيان المضمضة والاستنشاق] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو دوبارہ نماز پڑھے۔
٢٠٨١ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا وقتادة عن الرجل ينسى المضمضة والاستنشاق حتى يقوم في الصلاة؛ قال: الحكم وقتادة: يمضي، وقال حماد: ينصرف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم، حضرت حماد اور حضرت قتادہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو حضرت حکم اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ وہ نماز پڑھتا رہے حضرت حماد نے فرمایا کہ وہ نماز ختم کر دے۔
٢٠٨٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: إذا نسي المضمضة والاستنشاق في الجنابة؛ أعاد، وإذا نسي في الوضوء؛ أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غسل جنابت میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھولا ہے تو وہ دوبارہ نماز پڑھے اور اگر وضو میں بھولا ہے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔
٢٠٨٣ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن: في الرجل نسي المضمضة والاستنشاق (حتى) (١) صلى: قال: (لا يعيد) (٢) بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے بارے میں جو کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے اور نماز پڑھے فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
٢٠٨٤ - حدثنا شريك عن مغيرة وأبي الهيثم عن إبراهيم قال: ليس الاستنشاق بواجب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ناک میں پانی ڈالنا واجب نہیں۔
٢٠٨٥ - حدثنا أسباط بن محمد عن مغيرة عن حماد قال: إذا نسي الرجل المضمضة والاستنشاق؛ فلا يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو نماز کا اعادہ نہ کرے۔
٢٠٨٦ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن منصور قال: قلت لإبراهيم الرجل ينسى الاستنشاق فيذكر في الصلاة أنه نسي (قال) (٢) إبراهيم: يمضي في صلاته، قال: وقال منصور: والمضمضة مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے اور اسے نماز میں یاد آئے تو وہ کیا کرے ؟ ابراہیم نے فرمایا کہ نماز پڑھتا رہے۔ حضرت منصور فرماتے ہیں کہ کلی کا بھی یہی حکم ہے۔