٢٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي هاشم عن سعيد ابن جبير قال: إن كان بعض أمهات المؤمنين (لتقرص) (١) الدم (عن ثوبها) (٢) بريقها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک ام المومنین اپنے کپڑوں پر خون کا نشان دیکھتی تو اسے دھو دیا کرتی تھیں۔
٢٠٨٨ - حدثنا وكيع عن أبي معشر عن يزيد بن (١) زياد: أن الحسن بن علي رأى في قميصه دمًا، فبزق فيه، ثم دلكه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص پر خون دیکھا تو اس پر تھوک پھینک کر اسے رگڑ دیا۔
٢٠٨٩ - حدثنا وكيع عن حسين بن جعفر قال: حدثني سليط (بن عبد اللَّه) (١) بن يسار قال: (رأيت ابن عمر رأى في) (٢) (جربانه) (٣) دمًا فبزق فيه، ثم دلكه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیط بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے گریبان میں خون کا نشان دیکھا تو اس پر تھوک پھینک کر اسے رگڑ دیا۔
٢٠٩٠ - [حدثنا خالد بن حيان عن جعفر بن برقان قال: رأيت ميمون بن مهران يومًا (وهو) (١) يصلي، فرأى في ثوبه دمًا، فقال به هكذا، يعني بريقه، ثم فركه بيده] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت میمون بن مہران کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور دوران نماز انہوں نے اپنے کپڑوں پر خون کا نشان دیکھا تو اس پر تھوک پھینک کر اسے رگڑ دیا۔
٢٠٩١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر وعامر وعطاء قالوا: لا يغسل الدم بالبزاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر، حضرت عامر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ خون کو تھوک سے نہیں دھویا جائے گا۔