٢٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن عيسى (الرملي) (١) عن رزين قال: جاء رجل إلى (أبي جعفر) (٢)، فقال (له) (٣): إني أخرج في الليلة (المطيرة) (٤)، فأدوس الطين؟ قال: صل، قال: إني أخاف أن يكون فيها النتن، والقذرة؟، فكأنه غضب فقال: إن كنت تدوس (النتن) (٥) برجليك، فخذ معك ماء، فاغسل به رجليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رزین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت ابو جعفر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ بعض اوقات میں بارانی رات میں گھر سے نکلتا ہوں اور میرے پاؤں پر کیچڑ لگ جاتا ہے اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا نماز پڑھ لو، اس آدمی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات اس میں بدبو اور گندگی بھی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم کسی بدبو دار چیز سے گذرو تو پانی سے اسے دھو لو۔
٢٠٥٢ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن ابن المسيب أنه قال لرجل: ألا مسحتهما، ودخلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب نے ایک آدمی سے فرمایا کہ تم پاؤں دھو کر کیوں داخل نہیں ہوئے ؟
٢٠٥٣ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم قال: كان (علي) (١) يخوض طين المطر، ويدخل المسجد، فيصلي، ولا يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بارش کے کیچڑ پر سے گذرتے اور مسجد میں آ کر بغیر وضو کئے نماز پڑھتے تھے۔
٢٠٥٤ - حدثنا شريك عن حكيم بن (الديلم) (١) قال: رأيت (ابن) (٢) (معقل) (٣) في يوم (مطر) (٤) قائمًا يصلي إلى سارية في المسجد، وعلى رجليه مثل (الخلخالين) (٥) أو الحجالين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن دیلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن معقل کو ایک بارانی دن میں دیکھا کہ مسجد میں موجود ایک ستون کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے پاؤں پر پائل جیسے کیچڑ کے نشان تھے۔
٢٠٥٥ - حدثنا شريك عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود قال: رأيت علقمة والأسود يخوضان ماء المطر، وإن (الميازيب) (١) (تنثعب) (٢) ثم دخلا المسجد، فصليا، ولم يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ اور حضرت اسود کو دیکھا کہ وہ بارش کے پانی میں سے اس وقت گذرتے جب پرنالے پوری طرح بہہ رہے ہوتے تھے پھر مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتے لیکن وضو نہ کرتے۔
٢٠٥٦ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: كان إذا دخل المسجد في الأمطار نظر إلى خفيه فإن كان فيهما طين قليل، مسحه، ثم، دخل، فصلى، وإن كان كثيرًا (خلعهما) (١)، وأمر بهما، فغُسلا.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن کی عادت یہ تھی کہ بارش کے دنوں میں جب مسجد میں داخل ہونے لگتے تو اپنے موزوں کو دیکھتے، اگر ان پر تھوڑا کیچڑ لگا ہوتا تو اسے صاف کر کے مسجد میں داخل ہوتے اور نماز پڑھتے، اگر زیادہ لگا ہوتا تو انہیں اتار دیتے اور دھونے کا حکم دیتے۔
٢٠٥٧ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان أصحابنا يخوضون الماء والطين إلى مساجدهم، ويصلون، ولا يغسلون أرجلهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہمارے اسلاف مسجدوں کو جانے کے لئے پانی اور کیچڑ سے گذرتے تھے۔ اور پاؤں دھوئے بغیر نماز ادا کرتے تھے۔
٢٠٥٨ - حدثنا معن بن عيسى عن المختار (بن سعد) (١) قال [رأيت القاسم بن محمد دخل المسجد يوم مطر، ولم يغسل رجليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد کو دیکھا کہ وہ ایک بارش کے دن میں مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے پاؤں نہیں دھوئے۔
٢٠٥٩ - حدثنا أبو داود عن شعبة (١) قال:] (٢) كنت (أخوض) (٣) المطر، فسألت الحكم؟ فقال: (صله) (٤) قال: وسمعت أبا إسحاق يقول: كانوا يخوضون، ثم يصلون، ولا يحملون معهم الأكواز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں بارش میں سے گذرا کرتا تھا، اس بارے میں میں نے حضرت حکیم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسی میں نماز پڑھ لو، اسی میں نماز پڑھ لو، میں نے ابو اسحاق کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلاف بارش میں سے گذرتے تھے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔ وہ اپنے ساتھ لوٹے نہیں اٹھاتے تھے۔
٢٠٦٠ - حدثنا (حسين بن علي) (١) عن زائدة عن إبراهيم بن المهاجر عن عمرو بن عبد اللَّه قال: (كان هزيل) (٢) يخوض (الرداغ) (٣) في خفيه، ثم يصلي فيهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہزیل موزے پہن کر بارش کے کیچڑ میں چلتے تھے پھر انہیں دھوتے نہیں تھے۔