کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب حمام میں داخل ہو تو ازار پہن کر داخل ہو
١١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) قال: مررت إلى الحمام، فرآني أبو صادق (٢)، فقال: معك إزار؟ فإن عليًا كان يقول: من كشف عورته؛ أعرض عنه الملك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ میں حمام کی طرف جا رہا تھا کہ مجھے ابو صادق نے دیکھ لیا اور فرمایا تمہارے پاس ازار ہے، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص نے اپنا ستر ظاہر کیا اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرماتے ہیں۔
١١٨٢ - حدثنا هشيم قال: حدثنا منصور عن قتادة أن عمر بن الخطاب كتب: لا يدخل أحد الحمام إلا بمئزر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے یہ حکم لکھا کہ کوئی شخص بغیر ازار کے حمام میں داخل نہ ہو۔
١١٨٣ - حدثنا زياد بن الربيع (عن غالب) (١) القطان أن عمر بن ⦗٢٣٦⦘ عبد العزيز كتب إلى عامله على البصرة: أما بعد، فإنه (٢) من قبلك (لا يدخلوا) (٣) الحمام إلا بمئزر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ کے گورنر کے خط میں یہ حکم لکھا کہ اپنے علاقہ کے لوگوں کو بلا ازار حمام میں داخل ہونے سے منع کرو۔
١١٨٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (دثار الضبي) (١) عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير: قال حرام عليه دخول الحمام بغير (مئزر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں بلا ازار حمام میں داخل ہونا حرام ہے۔
١١٨٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن زياد بن عبد الرحمن قال: رأيت أبا جعفر دخل الحمام وعليه إزار إلي الركبتين، وفيه أناس بغير إزار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر کو حمام میں داخل ہوتے دیکھا، ان کے گھٹنوں تک ازار تھا، جبکہ اس حمام میں بغیر ازار کے بھی لوگ موجود تھے۔
١١٨٦ - [حدثنا محمد بن أبي عدي عن سلمة وأشعت عن محمد: أنه كان يكره أن يدخل الحمام بغير إزار] (١)، وكره أن يدخله بإزار وغيره ليس بإزار يقول: يرى عورته.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی بغیر ازار کے حمام میں داخل ہو اور اس بات کو بھی مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی ازار پہن کر داخل ہو لیکن دوسرے لوگ بلا ازار ہوں۔ اس سے یہ ان کی شرم گاہ دیکھ کر گناہ کا مرتکب ہوگا۔
١١٨٧ - حدثنا حفص بن غياث عن أسامة بن زيد عن مكحول قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد: أن لا يدخل رجل (الحمام) (١) إلا بمئزر، ولا امرأة إلا من سقم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے لشکروں کے قائدین کو یہ خط لکھا کہ کوئی مرد بغیر ازار کے حمام میں داخل نہ ہو اور کوئی عورت بغیر بیماری کے حمام میں داخل نہ ہو۔
١١٨٨ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون ⦗٢٣٧⦘ (قال) (١): إذا دخل أحدكم الحمام أو الفرات؛ فليأتزر (أو يلبس) (٢) (تبانًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی حمام یا فرات میں داخل ہو تو ازار پہنے اور جانگھیا پہن لے۔
١١٨٩ - حدثنا وكيع عن موسى (بن عبيدة) (١) قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يضرب صاحب الحمام ومن دخله بغير إزار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز صاحب حمام اور اس شخص کو مارتے تھے جو حمام میں بغیر ازار کے داخل ہو۔
١١٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن موسى بن عبيدة قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يجلد في (المنديل في الحمام) (١) ويعاقب صاحب الحمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبیدہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو دیکھا کہ وہ بغیر ازار کے حمام میں داخل ہونے والے کو کوڑا مار رہے تھے اور حمام کے مالک کو بھی سزا دے رہے تھے۔
١١٩١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا (عبد اللَّه بن شداد) (١) عن أبي (عذرة) (٢) وكان قد أدرك النبي ﷺ عن عائشة: أن النبي ﷺ نهى الرجال والنساء عن الحمامات إلا مريضة أو نفساء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے البتہ مریض اور نفاس والی عورت حمام میں داخل ہوسکتی ہے۔
١١٩٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن طاوس عن أبيه رفعه قال: من دخله منكم فليستتر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حمام میں داخل ہوجائے وہ ستر ڈھانپ لے۔
١١٩٣ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن كامل عن حبيب قال: دخل الحمام عطاء وطاوس، ومجاهد؛ فأطلوا فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد حمام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اس میں نورہ اپنے بدن پر لگایا۔