١٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن عمرو ابن مرة (عن عبد اللَّه بن سلمة) (١) عن علي قال: كان رسول اللَّه ﷺ يقرئنا القرآن على كل حال إلا الجنابة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے حالت جنابت کے ہر حال میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
١٠٨٦ - حدثنا حفص بن غياث ووكيع عن ابن أبي ليلى عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي عن النبي ﷺ: مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٠٨٧ - حدثنا حفص وأبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن عبيدة عن عمر قال: لا يقرأ الجنب القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے کہ جنبی قرآن نہ پڑھے۔
١٠٨٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد عن إبراهيم أن ابن مسعود كان يمشي نحو الفرات وهو (يقرئ) (١) رجلًا، فبال ابن مسعود فكف الرجل عنه، فقال ابن مسعود: ما لك؛ قال: إنك بلت، فقال ابن مسعود: إني لست بجنب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود دریائے فرات کی طرف جا رہے تھے اور ایک آدمی کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے پیشاب کیا تو وہ آدمی تلاوت سے رک گیا۔ حضرت ابن مسعود نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ آپ نے پیشاب کیا ہے۔ فرمایا میں جنبی تو نہیں ہوں۔
١٠٨٩ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن إبراهيم بن المهاجر عن إبراهيم عن الأسود قال: لا يقرأ الجنب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ جنبی قرآن کی تلاوت نہ کرے۔
١٠٩٠ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لا يقرأ الجنب القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں جنبی قرآن کی تلاوت نہ کرے۔
١٠٩١ - حدثنا شريك عن (فراس) (١) عن عامر قال: الجنب والحائض لا يقرآن القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جنبی اور حائضہ قرآن کی تلاوت نہ کریں۔
١٠٩٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن سيار عن أبي وائل قال: لا يقرأ الجنب والحائض القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ جنبی اور حائضہ قرآن کی تلاوت نہ کریں۔
١٠٩٣ - حدثنا شريك عن عامر بن (السمط) (١) عن (أبي الغريف) (٢) عن علي قال: لا يقرأ ولا حرفًا -يعني الجنب- (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنبی قرآن کا ایک حرف بھی نہ پڑھے۔
١٠٩٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يقرأ الجنب (١) القرآن، وقال: إنه إذا قرأ صلى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جنبی قرآن کی تلاوت نہ کرے اور فرمایا کہ اگر وہ قرآن پڑھتا ہے تو نماز بھی پڑھے۔