کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس عورت کا بیان جو حیض سے پاک ہو اور ظہر کے بعد زرد پانی دیکھے
٩٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: (تنضح فرجها و (تتوضأ) (١)، فإن كان دما ⦗٢٠١⦘ (غليظًا) (٢) عليها اغتسلت واحتشت؛ فإنما هي ركضة من الشيطان، فإذا فعلت ذلك مرة أو مرتين ذهب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی شرم گاہ کو صاف کرے اور وضو کرے۔ اگر گاڑھا خون ہو تو غسل کرے کیوں کہ شیطان کی طرف سے ایک رخنہ ہے۔ جب وہ ایک یا دو مرتبہ ایسا کرے گی وہ دور ہوجائے گا۔
١٠٠٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أَبيه عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: (إذا رأت المرأة بعد ما تطهر من الحيض مثل غسالة اللحم أو قطرة الرعاف أو فوق ذلك أو دون ذلك؛ فلتنضح بالماء، ثم لتتوضأ ولتصل، ولا تغتسل إلا أن ترى دمًا (عبيطًا) (١)، فإنما هي ركضة من الشيطان في الرحم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اگر حیض سے پاک ہونے کے بعد خون کی یا نکسیر کے قطرے یا اس سے کم یا اس سے زیادہ کوئی چیز دیکھے تو اسے پانی سے صاف کر کے وضو کرے اور نماز پڑھے۔ غسل نہ کرے البتہ اگر گاڑھا خون دیکھے تو غسل بھی کرے۔ یہ شیطان کی طرف سے رحم میں ایک طرح کا رخنہ ہے۔
١٠٠١ - حدثنا ابن علية عن عباد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن عمرة قالت: كانت عائشة تنهى النساء أن ينظرن إلى أنفسهن في المحيض ليلا وتقول: إنه (قد تكون) (١) الصفوة والكدرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کو اس بات سے منع فرماتی تھیں کہ رات کے وقت خود کو دیکھیں اور کہتی تھیں کہ وہ زرد اور مٹیالہ ہوتا ہے۔
١٠٠٢ - حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن أشعث عن الحكم وحماد عن إبراهيم في المرأة تغتسل، ثم ترى الصفوة قال: تغتسل وتصلي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت حیض کا غسل کرنے کے بعد زرد پانی دیکھے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔
١٠٠٣ - حدثنا ابن أبي زائدة عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية قال: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حنفیہ فرماتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں۔
١٠٠٤ - حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن هشام عن حفصة عن أم عطية قالت: كنا لا نرى (الترّية) (١) شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہم حیض سے پاک ہونے کے بعد آنے والے زرد پانی کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
١٠٠٥ - حدثنا معتمر بن سليمان عن (أَبيه) (١) عن ابن سيرين قال: كانوا لا يرون بالصفرة والكدرة بأسًا، يعني: بعد الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف زرد اور مٹیالے پانی سے غسل کو لازم قرار نہ دیتے تھے۔
١٠٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن القعقاع عن إبراهيم في المرأة ترى الصفرة بعد (الغسل) (١)، قال: (تتوضأ) (٢) وتصلي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو عورت حیض کا غسل کرنے کے بعد زرد پانی دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھے۔
١٠٠٧ - حدثنا وكيع عن شريك عن عبد الكريم عن عطاء في المرأة ترى الصفوة بعد الغسل قال: (تتوضأ) (١) وتصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرتے ہیں کہ جو عورت حیض کا غسل کرنے کے بعد زرد پانی دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھے۔
١٠٠٨ - حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قال: إذا رأتها بعد الغسل؛ فإنها تستثفر وتتوضأ وتصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر عورت حیض کا غسل کرنے کے بعد زرد پانی دیکھے تو اسے صاف کرے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔