٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حصين عن هلال بن يساف قال: كان يقال: في (١) الوضوء إسراف، ولو كنت على شاطيء نهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے خواہ تم نہر کے کنارے بیٹھ کر وضوکرو۔
٧٢٤ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه أبو مري (١) عن أبي غالب قال: رأيت أبا أمامة توضأ بكوز من ماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو امامہ کو پانی کے لوٹے سے وضو کرتے دیکھا ہے۔
٧٢٥ - حدثنا (حميد) (١) بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن سماك قال: رأيت جابر بن سمرة (و) (٢) أتى بكوز من ماء، فتوضأ ومسح على خفيه، (ثم صلى العصر) (٣) وأنا أنظر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ کو دیکھا کہ ان کے پاس پانی کا لوٹا لایا گیا۔ انہوں نے اس سے وضو کیا، موزوں پر مسح کیا اور عصر کی نماز ادا فرمائی۔
٧٢٦ - حدثنا أبو أسامة عن خالد بن دينار قال: رأيت سالما يتوضأ وضوءا خفيفا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کو دیکھا کہ انہوں نے خفیف وضو فرمایا۔
٧٢٧ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: رأيت عمرو بن مرة توضأ، فما سال (الماء) (١). يعني: من قلته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ کو دیکھا وہ وضو کرتے ہوئے اتنا کم پانی استعمال کر رہے تھے کہ پانی بہتا تک نہیں تھا۔
٧٢٨ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عمارة عن الأسود قال: كان له قعب يتوضأ به. زاد أبو معاوية: قدر ري الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسود کے پاس ایک موٹا برتن تھا جس سے وضو فرماتے تھے۔ ابومعاویہ نے اضافہ کیا ہے کہ وہ پانی اتنا ہوتا تھا جس سے ایک آدمی سیراب ہو سکے۔
٧٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن (١) العوام عن أبي الهذيل: أنه رأى جارا له يتوضأ فقال: أقصد في الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہذیل نے اپنے ایک پڑوسی کو وضو کرتے دیکھا تو اس سے فرمایا ” وضو میں اعتدال اختیار کرو “۔
٧٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن إبراهيم التيمي قال: أول ما يبدأ الوسواس: من الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ وسوسے سب سے پہلے وضو میں آتے ہیں۔
٧٣١ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا العوام عمن أخبره عن أبي الدرداء قال: أقصد في الوضوء، ولو كنت على شاطيء نهر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ وضو میں اعتدال اختیار کرو خواہ تم نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔
٧٣٢ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: إني لأتوضأ بكوز من الحب مرتين، يعني: بنصف الكوز] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں آدھا لوٹا پانی سے وضو کرتاہوں۔
٧٣٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يقولون كثرة الوضوء من الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا زیادہ وضو کرنا شیطان کی طرف سے ہے۔
٧٣٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يلطموا وجوههم بالماء لطما، وكانوا يمسحونها قليلا قليلا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہمارے حضرات چہرے پر زور زور سے پانی مارنے کو برا خیال کرتے تھے، وہ چہرے پر آہستہ آہستہ پانی ملا کرتے تھے۔
٧٣٥ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إذا التقى الماءان فقد تم الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب دو پانی مل جائیں تو وضو مکمل ہوگیا۔
٧٣٦ - حدثنا وكيع عن شريك عن خالد بن زيد قال: رأيت ابن عمر يتوضأ، فكان (يسن) (١) الماء على وجهه (سنا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ اپنے منہ پر پانی چھڑک رہے تھے۔
٧٣٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن (إبراهيم) (١) عن علقمة قال: قال عبد اللَّه: الماء على إثر الماء يجزيء. وليس بعد الثلاث شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک پانی کے بعد دوسرا پانی کافی ہے اور تین کے بعد کچھ نہیں۔
٧٣٨ - حدثنا وكيع عن سوادة (بن) (١) أبي الأسو عن الحسن: أنه توضأ بكوز.
مولانا محمد اویس سرور
حسن لوٹے سے وضو فرماتے تھے۔
٧٣٩ - [حدثنا الفضل بن دكين عن محمد بن أبي حفص عن السدي عن البهي عن عائشة: أن النبي ﷺ توضأ بكوز] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹے سے وضو فرمایا۔
٧٤٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن عبد اللَّه بن عيسى عن ابن (جبر) (١) عن أنس: أن النبي ﷺ توضأ برطلين من ماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رطل پانی سے وضو فرمایا۔