٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أبي ريحانة (١) عن سفينة صاحب رسول اللَّه ﷺ قال: كان رسول اللَّه ﷺ يغتسل بالصاع ويتطهر بالمد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفینہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے۔
٧١٢ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يغتسل من الفَرَق، وهو القدح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرق نامی برتن سے غسل فرماتے تھے۔
٧١٣ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن سالم بن أبي الجعد عن جابر عن النبي ﷺ قال: "يجزئ من الوضوء المد، ومن الجنابة الصاع". فقال رجل: ما يكفينا يا جابر؟ فقال: قد كفي من هو خير منك وأكثر شعرا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وضو کے لئے ایک مد اور غسل کے لئے ایک صاع پانی کافی ہے۔ ایک آدمی نے پوچھا اے جابر ! ہمارے لئے کتنا کافی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جتنا تم سے بہتر اور تم سے زیادہ بالوں والے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کافی تھا۔
٧١٤ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن: أن رجلا حدثهم قال: (دخلت على عائشة، فقلت: يا أم المؤمنين ما كان يقضي عن رسول اللَّه ﷺ غسله؟ قال: ⦗١٤٣⦘ فدعت بإناء حزرته صاعًا من صاعكم هذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کے لئے کتنا پانی استعمال فرماتے تھے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن دکھایا جو تقریبا ایک صاع کے برابر تھا،
٧١٥ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ابن جبر (١) عن أنس قال: يتوضأ بالمد، ويغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم ایک مد پانی سے وضو کرو اور ایک صاع سے پانچ مد پانی تک غسل کرو۔
٧١٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن ابن أبي خالد عن جابر بن زيد قال: سئل جابر عن غسل الجنابة؟ فقال: صاع. فقال: ما أرى يكفيني؟ فقال جابر: بلى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کے لئے کتنا پانی کافی ہے ؟ فرمایا ایک صاع۔ پھر پوچھا گیا کہ میرے خیال میں اتنا کافی نہ ہوگا۔ فرمایا کافی ہوجائے گا۔
٧١٧ - حدثنا ابن عيينة عن عبيد اللَّه بن أبي يزيد سمع ابن عباس يقول: (يجزيء الصاع للجنب) فقال عبيد اللَّه: لا أدري قبل الوضوء أو بعده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنبی کے لئے ایک صاع پانی کافی ہے عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ ایک صاع وضو سے پہلے مراد ہے یا بعد میں۔
٧١٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج عن أبي جعفر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يتوضأ بمد من ماء ويغتسل بصاع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔
٧١٩ - حدثنا عبد الرحيم عن حجاج عن إبراهيم بن مهاجر عن صفية ابنة شيبة عن عائشة: بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یونہی منقول ہے۔
٧٢٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عطية قال: رأيت ابن عمر توضأ من كوز، وأفضل فيه. قلت يكون مدا؟ قال: وأفضل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو لوٹے کے پانی سے وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اس میں سے بچا دیا تھا۔ کسی نے پوچھا وہ ایک مد پانی ہوگا۔ فرمایا اس سے زیادہ تھا۔
٧٢١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: كانوا يرون مدا للوضوء، وللغسل صاعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ صحابہ وضو کے لئے ایک مد اور غسل کے لئے ایک صاع پانی کو کافی سمجھتے تھے۔
٧٢٢ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن منصور عن إبراهيم قال: كان يقال يكفي الرجل لغسله ربع الفرق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آدمی کے غسل کے لئے ایک فرق کا ربع کافی ہے۔