کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس شخص کے لئے کیا حکم ہے جو سر کا مسح کرنا بھول گیا لیکن اس کی داڑھی میں تری موجود ہے
٢١٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا نسي أن يمسح رأسه، وفي لحيته بلل، فذكر وهو في الصلاة. فإن كان في لحيته بلل؛ فليمسح رأسه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص سر کا مسح کرنا بھول گیا لیکن اس کی داڑھی میں تری موجود تھی اور وہ نماز کی حالت میں ہو تو اسے چاہئے کہ داڑھی کی تری سے سر کا مسح کر لے۔
٢١٦ - حدثنا حفص بن غياث عن عبد الملك عن عطاء قال: إذا نسي مسح رأسه، فوجد في لحيته بللا؛ أجزأه أن يمسح به رأسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء کہتے ہیں کہ جس شخص کو وضو میں سر کا مسح کرنا یاد نہ رہا لیکن اس کی داڑھی میں تری موجود تھی تو اسے چاہئے کہ اسی تری سے سر کا مسح کر لے۔
٢١٧ - حدثنا حفص عن هشام عن الحسن، وعن الأعمش عن (١) إبراهيم: مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش نے ابراہیم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
٢١٨ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن - (في قوله) (١) في الرجل: يذكر في الصلاة أنه لم يمسح رأسه، وفي لحيته بلل- قال: يمسح رأسه من بلل لحيته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جسے نماز میں یاد آیا کہ اس نے سر کا مسح نہیں کیا لیکن اس کی داڑھی میں تری موجود تھی کہ وہ داڑھی کی تری سے سر کا مسح کر لے۔
٢١٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن قتادة عن خلاس -فيما يعلم حماد- عن علي قال: إذا توضأ الرجل، فنسي أن يمسح، برأسه فوجد في لحيته بللا؛ أخذ من لحيته فمسح رأسه (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص سر کا مسح کرنا بھول گیا لیکن اس کی داڑھی میں تری موجود تھی اور وہ نماز کی حالت میں ہو تو اسے چاہئے کہ داڑھی کی تری سے سر کا مسح کر لے۔