١٢٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مسلم بن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: إن استطعت أن تبلغ بالماء أصول اللحية؛ فافعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم پانی داڑھی کی جڑوں تک پہنچا سکو تو ضرور پہنچاؤ۔
١٢٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن ابن سيرين قال: رأيته يغسل لحيته، فقلت له من السنة غسل اللحية؟ فقال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو داڑھی دھوتے ہوئے دیکھا تو عرض کیا کہ کیا داڑھی کا دھونا سنت ہے ؟ فرمایا نہیں۔
١٢٩ - حدثنا غندر عن ابن جريج عن عطاء: أنه كان يرى بلّ أصولها من الماء. يعنى: اللحية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ حضرت عطاء وضو کا پانی داڑھی کی جڑوں تک پہنچایا کرتے تھے۔
١٣٠ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن، وعبيدة عن إبراهيم: أنهما كانا يستحبان أن يمسحا باطن اللحية في الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری کہتے ہیں کہ حضرت عبیدہ اور ابراہیم اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ وضو کا پانی داڑھی کی جڑوں تک پہنچایا جائے۔
١٣١ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن محارب عن ابن سابط قال: إذا توضات؛ فلا تنس الفنيكين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ جب تم وضو کرو تو جبڑوں تک پانی پہنچانا مت بھولو۔
١٣٢ - حدثنا يحيى بن اليمان عن سفيان عن ابن شبرمة عن سعيد بن جبير قال: ما بال الرجل يغسل لحيته قبل أن تنبت، فإذا نبتت لم يغسلها!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ آدمی بالوں کے اگنے سے پہلے داڑھی کو دھوتا ہے لیکن نہ جانے داڑھی کے بال آ جانے کے بعد کیوں نہیں دھوتا !