کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ داڑھی کا خلال کرنا ضروری نہیں بلکہ اس پر بہنے والا پانی کافی ہے
١١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن سعيد بن (عبد الرحمن الزبيدي) (١) قال: سألت إبراهيم أخلل لحيتي بالماء، أو يكفيها (ما مر) (٢) عليها؟ قال: يكفيها ما مر عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید زبیدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ میں داڑھی کا خلال کروں یا اس پر بہہ جانے والا پانی کافی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس پر بہہ جانے والا پانی کافی ہے۔
١١٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام قال: كان الحسن لا يفعل، يعني: لا يخلل لحيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری داڑھی کا خلال نہیں کیا کرتے تھے۔
١١٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية قال: رأيته مسح جانبي لحيته وعارضيه، ولم يخللها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الحنفیہ کو دیکھا کہ انہوں نے داڑھی کے ظاہری حصوں پر ہاتھ پھیرا لیکن داڑھی کا خلال نہیں فرمایا۔
١٢٠ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازى عن أبي جعفر عن الربيع عن أبي العالية قال: حسبك ما سال من وجهك على لحيتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ پانی تمہاری داڑھی پر بہہ جائے۔
١٢١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ثوير قال. رأيت أبا جعفر لا يخلل لحيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر کو دیکھا وہ اپنی داڑھی کا خلال نہیں کرتے تھے۔
١٢٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر ومحمد بن علي ومجاهد والقاسم: أنهم كانوا يمسحون لحاهم ولا يخللونها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر، حضرت محمد بن علی، حضرت مجاہد اور حضرت قاسم داڑھی کا مسح کرتے تھے، خلال نہیں کرتے تھے۔
١٢٣ - حدثنا جوير بن عبد الحميد عن يزيد (عن) (١) عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: رأيته توضأ ولم أره خلل لحيته، ثم قال: هكذا رأيت عليا توضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو میں نے وضو کرتے دیکھا لیکن میں نے انہیں داڑھی کا خلال کرتے نہیں دیکھا۔ یہ وضو کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یونہی وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
١٢٤ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن الحسن قال: يجزئك ما سال من وجهك على لحيتك، ولا تخلل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وضو کا پانی تمہاری داڑھی پر بہہ جائے، خلال کرنا ضروری نہیں۔
١٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن عجلان قال: سئل القاسم بن محمد عن تخليل اللحية. فقال: ما عليّ كدُّها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عجلان کہتے ہیں کہ قاسم بن محمد سے تخلیل لحیہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا میں اسے ضروری نہیں سمجھتا۔
١٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور قال: رأيت إبراهيم توضأ، ولم يخلل لحيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو وضو کرتے دیکھا لیکن انہوں نے داڑھی کا خلال نہیں کیا۔