مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يستحب أن يصلي الركعتين بعد المغرب في بيته باب: جو حضرات اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ مغرب کے بعد دور کعتیں گھر میں پڑھی جائیں
حدیث نمبر: 6528
٦٥٢٨ - حدثنا عبد الأعلى عن ابن إسحاق قال: حدثنا العباس (بن) (١) سهل (ابن سعد) (٢) (الساعدي) (٣) قال: لقد أدركت زمان عثمان بن عفان وأنه ليسلم من المغرب (فما أرى) (٤) رجلًا واحدًا يصليهما في (المسجد يبتدرون أبواب) (٥) المسجد حتى (يخرجوا) (٦) فيصلونها (٧) في بيوتهم (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عثمان بن عفان کا زمانہ دیکھنا نصیب ہوا، جب وہ مسجد میں مغرب کا سلام پھیرتے تو مسجد میں ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا، وہ سب مسجد کے دروازوں کی طرف لپکتے اور دو سنتیں گھرجا کرا دا کیا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ب]: (أنا).
(٢) سقط من: [أ، ز].
(٣) في [ز]: (الساعي).
(٤) في [أ]: (فلم رأى)، وفي [هـ]: (فلما أرى).
(٥) في [هـ]: ما بين القوسين غير واضح.
(٦) في [أ، ز]: (يخرجون).
(٧) في [ب]: (يصلوها).