مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في قوله ﵎: ﴿كانوا قليلا من الليل ما يهجعون﴾ باب: فرمانِ باری تعالی «كانُوا قَلِيلاً مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ» ( رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں ) کی تفسیر
حدیث نمبر: 6448
٦٤٤٨ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) (بكير) (٢) بن أبي السميط قال: حدثنا قتادة في قوله (تعالى) (٣): ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: كان الحسن يقول: (قليلًا) (٤) من الليل ما ينامون.مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ رات کو بہت تھوڑا سوتے ہیں۔ حضرت مطرف بن عبد اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ بہت کم راتیں ایسی ہیں جن میں وہ اللہ کی عبادت نہ کرتے ہوں۔ حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ عشاء کی نما ز سے پہلے نہیں سویا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ب، ك]: (نا).
(٢) في [ك]: (بكر).
(٣) سقط من: [أ، ب، ز، ك].
(٤) في [أ، ز، ك]: (قليل).