مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري الشيء على أن ينظر إليه باب: کوئی شخص چیز کو اس شرط پر خریدے کہ پہلے اس کو دیکھے گا
٢٤٠٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر قال: اشترى عمر من رجل فرسا، واستوجبه على إن رضيه وإلا فلا بيع بينهما، فحمل عليه عمر رجلا (من) (١) عنده فعطب الفرس، (فجعلا) (٢) بينهما شريحا، فقال: شريح لعمر: سلم ما (ابتعت) (٣) أو رد ما أخذت، فقال له: (قضيت) (٤) بمر الحق (٥).حضرت عامر سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص سے گھوڑا خریدا، اور فرمایا اگر تو راضی ہوگیا تو ثمن مجھ پر لازم ہوجائے گا، وگرنہ ہمارے درمیان بیع نہ ہوگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے سامنے اس پر ایک شخص کو سوار کیا، گھوڑا جلدی تھک گیا، حضرت شریح کو ان کے درمیان حاکم بنایا، حضرت شریح نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جو آپ نے خریدا ہے وہ سپرد کردو یا جو آپ نے لیا ہے وہ واپس کردو، حضرت عمر نے ان سے فرمایا : آپ نے کڑوے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔ حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ان کو کوفہ کے قضاء کے لئے اور حضرت کعب بن سور کو بصرہ کے قضاء کے لئے بھیجا۔