حدیث نمبر: 15903
١٥٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن (١) ابن أبي عروبة عن مطر الوراق عن معاوية بن قرة أن رجلًا أوطأ بعيره بيض نعام. فسأل عليًا فقال: عليك لكل بيضة (ضراب) (٢) (ناقة) (٣) [أو (جنين) (٤) (ناقة) (٥)] (٦) فانطلق إلى رسول اللَّه ⦗٥٣٦⦘ ﷺ فأخبره (بما) (٧) قال، (فقال) (٨): "قد قال ما سمعت، (عليك) (٩) في (كل) (١٠) بيضة صيام يوم أو إطعام مسكين" (١١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کے اونٹ نے شتر مرغ کے انڈے روند ڈالے، اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تجھ پر اونٹنی کا بچہ لازم ہے، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق جو اس نے کہا وہ تو نے سن لیا، تجھ پر ہر انڈے کے بدلے ایک روزہ یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔
حواشی
(١) في [س، ز]: زيادة (عن).
(٢) في [ط، هـ]: (صواب)، وفي [س]: (حراب).
(٣) في [هـ]: (ناقته).
(٤) في [أ، ب، جـ، ز]: (حبن).
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [هـ]: (ناقته).
(٦) سقطت ما بين المعكوفين من: [س].
(٧) في [ط]: (ما).
(٨) سقط من: [س].
(٩) في [أ]: زيادة الواو في (وعليك)، وسقط من: [س].
(١٠) سقط من: [ب].
(١١) منقطع؛ معاوية بن قرة لا يروي عن علي، أخرجه أحمد (٢٠٥٨٢)، وأبو داود في المراسيل (١٣٩)، وعبد الرزاق (٨٢٩٢)، والدارقطني ٢/ ٢٤٨، والبيهقي ٥/ ٢٠٧.