مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في المحرم يصيب القطاة ما عليه باب: محرم اگر فاختہ کا شکار کر لے تو اس پر کیا لازم ہے؟
حدیث نمبر: 15416
١٥٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن عبد اللَّه بن (مؤمل) (١) عن ابن أبي مليكة عن ابن عمر وابن عباس في محرم قتل قطاة فقالا: (ثلثا مد وثلثا) (٢) مد (أجزأ) (٣) (في بطن مسكين) (٤) من قطاة (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محرم شخص اگر فاختہ کا شکار کرے تو وہ تہائی مد صدقہ کرے، اور تہائی مد مسکین کے پیٹ میں فاختہ کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ن]: (مريد).
(٢) في [ن]: (ثلاثة مد وثلاثة).
(٣) في [أ]: (آخر)، وفي [ن]: (خير).
(٤) سقط من: [ن].