حدیث نمبر: 13672
١٣٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقول: إذا (أعطبت) (٢) البدنة أو كسرت أكل (منها) (٣) صاحبها (وأطعم) (٤) ولم يبدلها إلا أن يكون نذرًا أو جزاء صيد (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اگر اونٹ راستے میں تھک جائے یا اس کا پاؤں ٹوٹ جائے تو اس کا مالک اس میں سے خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے، اس پر اس کا بدل لازم نہیں ہے، ہاں اگر وہ نذر یا شکار کے بدلے کا جانور ہو تو پھر اگر کھالیا تو بدل لازم آئے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ص، ن]: (أعطيت).
(٣) في [ز، ن]: (عنها).
(٤) في [جـ، ص، ز]: (وأطعم)، وفي [أ]: (أو أطعم)، وفي [ن]: (أو أطعمه).