حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ الْخُزَاعِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي حَفْصَةُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ " مَا جَزَاءُ الْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ؟ قَالَ: «النَّصِيحَةُ وَالدُّعَاءُ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نَكْرَهُ رَدَّ اللُّطْفِ. قَالَ: «مَا أَقْبَحَهُ لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ، لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ»
ترجمہ
سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غریب پر مالدار کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نصیحت اور دعا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تحفہ واپس کرنا ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتنا برا ہے، اگر مجھے بکری کا پایا بھی ہدیہ کیا جائے تو میں قبول کروں گا، اور اگر مجھے بکری کی دستی کے کھانے پر بلایا جائے تو میں قبول کروں گا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ الْخُزَاعِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي حَفْصَةُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُضْعِفُ الْحُبَّ وَتَذْهَبُ بِغَوَائِلِ الصَّدْرِ»
ترجمہ
سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”آپس میں ہدیہ دیا کرو، کیونکہ ہدیہ محبت کو بڑھاتا ہے اور دل کی کدورت کو دور کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حُبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ، حَدَّثَتْنِيِ أُمِّي حَفْصَةُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «دُعَاءُ الْوَالِدِ يُفْضِي إِلَى الْحِجَابِ»
ترجمہ
سیدہ ام حکیم بنت وداع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”والد کی دعا (براہِ راست) قبولیت تک پہنچتی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي حَفْصَةُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ يَقُولُ: «عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ وَأَخَّرُوا السُّحُورَ»
ترجمہ
سیدہ ام حکیم بنت وداع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”افطار میں جلدی کرو اور سحری میں تاخیر کرو۔“