المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم سفيان باب: سیدہ ام سفیان رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ: " أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ فَتَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا، فَإِذَا قَامَتْ، قَالَتْ:: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: كَذَبَتْ، إِنَّمَا ذَاكَ لِأَهْلِ الْكِتَابِ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يَقُومُ فِيهِمَا مِثْلَ قِيَامِهِ وَيَرْكَعُ مِثْلَ رُكُوعِهِ "ابن سفیان سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا کرتی اور ان سے باتیں کیا کرتی تھی، جب وہ اٹھتی تو کہتی: اللہ تجھے عذابِ قبر سے پناہ دے۔ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو یہ بات بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا، یہ تو صرف اہلِ کتاب کے لیے ہے۔“ پھر سورج گرہن ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور کھڑے ہو کر لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور کھڑے ہو کر لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اسی طرح دو رکوع کیے اور دو سجدے کیے، ان میں بھی اسی طرح قیام اور رکوع کیا۔