حدیث نمبر: 21854
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ الْخُزَاعِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي حَفْصَةُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ " مَا جَزَاءُ الْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ؟ قَالَ: «النَّصِيحَةُ وَالدُّعَاءُ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نَكْرَهُ رَدَّ اللُّطْفِ. قَالَ: «مَا أَقْبَحَهُ لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ، لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ»
ترجمہ

سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غریب پر مالدار کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نصیحت اور دعا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تحفہ واپس کرنا ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتنا برا ہے، اگر مجھے بکری کا پایا بھی ہدیہ کیا جائے تو میں قبول کروں گا، اور اگر مجھے بکری کی دستی کے کھانے پر بلایا جائے تو میں قبول کروں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21854
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 162، حدیث 392