المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر الشعبي، عن أم هانئ باب: عامر شعبی کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21435
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا بِي عَنْكَ رَغْبَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنْ لَا أُحِبُّ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَبَنِيَّ صِغَارٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ؟ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ»ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے کوئی بے رغبتی نہیں، لیکن میں نہیں چاہتی کہ نکاح کروں جبکہ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں، جو بچپن میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان اور شوہر کے مال میں سب سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں۔“