کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوبکر بن صخیر بن ابی جہم کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، وَقَدْ أَخْرَجَتْ بِنْتَ أَخِيهَا ظُهْرًا، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟ قَالَتْ: كَانَ زَوْجِي أَبُو حَفْصِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بَعَثَ إِلَيَّ مَعَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي ثَلَاثًا، وَبَعَثَ إِلَيَّ بِخَمْسَةِ أُصْعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَخَمْسَةِ أُصْعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: وَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ فَجَمَعْتُ عَلِيَّ ثِيَابِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَمْ طَلَّقَكِ؟» قُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: «فَإِنَّهُ صَدَقَ لَا نَفَقَةَ لَكِ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ تَضَعِي عَنْكِ ثِيَابَكِ»
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس نے میرے پاس پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجے، تو میں نے کہا: کیا میرے لیے صرف یہی نفقہ ہے؟ تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: تین، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس نے سچ کہا، تمہارے لیے نفقہ نہیں، ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، وہاں تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21297
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 376، حدیث 929
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ صُخَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَكَانَ زَوْجُهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً»
ترجمہ
ابوبکر بن صخیر کہتے ہیں: میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دی تھیں، تو انہوں نے کہا: ”میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے میرے لیے نہ رہائش مقرر کی نہ نفقہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21298
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 376، حدیث 930
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَكَانَ زَوْجُهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: مَتَّعَنِي بِثَلَاثَةِ آصُعٍ شَعِيرٍ، وَثَلَاثَةِ آصُعٍ تَمْرٍ، قَالَتْ: وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَكُونَ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ مَكْفُوفُ الْبَصَرِ لَا يَرَانِي حِينَ اخْلَعُ خِمَارِي، قَالَ: «فَإِذَا حَلَلْتِ فَلَا تَسْبِقِينِي» فَلَمَّا حَلَلْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَذَكَرَكِ أَحَدٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو جَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَشَدِيدُ الْخُلُقِ عَلَى نِسَائِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَلَا مَالَ لَهُ، وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ» ، فَقُلْتُ: أُسَامَةُ - تَهَاوُنًا بِأَمْرِ أُسَامَةَ - ثُمَّ قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةً لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَزَوَّجَنِي أُسَامَةَ «فَكَرَمَنِي اللهُ بِابْنِ زَيْدٍ، وشَرَّفَنِي اللهُ بِابْنِ زَيْدٍ، ونَفَعَنِي اللهُ بِابْنِ زَيْدٍ»
ترجمہ
… اور تین صاع کھجور بھیجے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم کے ہاں رہوں، کیونکہ وہ نابینا تھے، جب میں اپنی اوڑھنی اتارتی تو وہ مجھے نہیں دیکھ سکتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب حلال ہو جاؤ تو مجھ سے پہلے کوئی فیصلہ نہ کرنا۔“ جب میں حلال ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کسی نے تمہیں پیغامِ نکاح دیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، معاویہ اور ابوجہم نے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنی عورتوں پر سخت مزاج ہے، اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو اس کے پاس مال نہیں، بلکہ تم اسامہ سے نکاح کر لو۔“ تو میں نے کہا: اسامہ؟ — اسامہ کے معاملے کو ہلکا سمجھتے ہوئے — پھر میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور مانی، تو آپ ﷺ نے میرا نکاح اسامہ سے کر دیا، ”تو اللہ نے ابن زید کے ذریعے مجھے عزت دی، اللہ نے ابن زید کے ذریعے مجھے شرف دیا، اور اللہ نے ابن زید کے ذریعے مجھے فائدہ پہنچایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21299
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 377، حدیث 931