حدیث نمبر: 21297
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، وَقَدْ أَخْرَجَتْ بِنْتَ أَخِيهَا ظُهْرًا، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟ قَالَتْ: كَانَ زَوْجِي أَبُو حَفْصِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بَعَثَ إِلَيَّ مَعَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي ثَلَاثًا، وَبَعَثَ إِلَيَّ بِخَمْسَةِ أُصْعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَخَمْسَةِ أُصْعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: وَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ فَجَمَعْتُ عَلِيَّ ثِيَابِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَمْ طَلَّقَكِ؟» قُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: «فَإِنَّهُ صَدَقَ لَا نَفَقَةَ لَكِ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ تَضَعِي عَنْكِ ثِيَابَكِ»
ترجمہ

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس نے میرے پاس پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجے، تو میں نے کہا: کیا میرے لیے صرف یہی نفقہ ہے؟ تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: تین، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس نے سچ کہا، تمہارے لیے نفقہ نہیں، ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، وہاں تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21297
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 376، حدیث 929