حدیث نمبر: 21296
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّهُ: طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي، وَأَمَرَ وَكِيلًا لَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَاسْتَقَلَّتْهَا فَانْطَلَقَتْ إِلَى إِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَهَا فُلَانٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ» ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: «انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا» ، ثُمَّ قَالَ: «لَا إِنَّ أُمَّ مَكْتُومٍ امْرَأَةً يَكْثُرُ عُوَّادُهَا، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى» فَانْتَقَلَتْ إِلَيْهِ فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو جَهْمٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا، فَقَالَ: «أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَأَخَافُ عَلَيْكِ فَسْقَشَتَهُ لِلْعَصَا، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَخْلَقُ مِنَ الْمَالِ» فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ
ترجمہ

… تو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں، فلاں شخص نے انہیں طلاق دی، اس نے انہیں کچھ نفقہ بھیجا تو انہوں نے اسے واپس کر دیا، اور اس کا خیال ہے کہ یہ تو اس نے احسان کے طور پر بھیجا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ پھر ان سے فرمایا: ”ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ اور اس کے ہاں عدت گزارو۔“ پھر فرمایا: ”نہیں، ام مکتوم تو ایک ایسی عورت ہے جس کے ہاں ملنے والے زیادہ آتے ہیں، بلکہ تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ، کیونکہ وہ نابینا ہیں۔“ تو وہ ان کے ہاں منتقل ہو گئیں اور ان کے ہاں عدت گزاری یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی، پھر ابوجہم اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں پیغامِ نکاح بھیجا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تاکہ آپ سے ان دونوں کے بارے میں مشورہ لیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ تمہیں سخت مزاجی سے پیش آئے گا، اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ مال سے خالی ہاتھ آدمی ہے۔“ تو انہوں نے اس کے بعد اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21296
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 375، حدیث 928