کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا، ان کا نام عاتکہ بنت خلیف تھا؛ بعض کے نزدیک عاتکہ بنت خالد بن منقذ بن خنیس کعبیہ خزاعیہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: بَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ دَاجِنٍ فَرَدَّهَا، وَقَالَ: «ابْعَثِي شَاةً لَا تَحْلِبُ»
ترجمہ
ام معبد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک گھر میں پلی ہوئی بکری بھیجی، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ایسی بکری بھیجو جو دودھ نہ دیتی ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ، كَانَتْ تَجْرِي عَلَيْهَا كِسْوَةٌ، وَشَيْءٌ مِنْ غَلَّةِ الْيَمَنِ، وقَطِرانٌ لإِبِلِها، فَمَرَّ بِهَا عُثْمَانُ فَقَالَتْ: «أَيْنَ كُسْوَتِي، وَأَيْنَ غَلَّةُ الْيَمَنِ الَّتِي كَانَتْ تَأْتِيَنِي؟» فَقَالَ: هِيَ لَكِ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ عِنْدَهَا، واتَّبَعَها حَتَّى أَعْطَاهَا إِيَّاهَا
ترجمہ
ام معبد رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ انہیں (باقاعدگی سے) کپڑا، یمن کی آمدنی میں سے کچھ حصہ، اور ان کے اونٹوں کے لیے تارکول ملا کرتا تھا، تو ایک بار عثمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: ”میرا کپڑا کہاں ہے، اور یمن کی وہ آمدنی کہاں ہے جو مجھے آیا کرتی تھی؟“ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام معبد! وہ تمہارا ہی ہے۔ پھر وہ ان کے پیچھے گئے یہاں تک کہ وہ چیز انہیں دے دی۔