المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم معبد الخزاعية واسمها عاتكة بنت خليف " ويقال عاتكة بنت خالد بن منقذ بن خنيس الكعبية الخزاعية " باب: سیدہ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا، ان کا نام عاتکہ بنت خلیف تھا؛ بعض کے نزدیک عاتکہ بنت خالد بن منقذ بن خنیس کعبیہ خزاعیہ
حدیث نمبر: 21234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ، كَانَتْ تَجْرِي عَلَيْهَا كِسْوَةٌ، وَشَيْءٌ مِنْ غَلَّةِ الْيَمَنِ، وقَطِرانٌ لإِبِلِها، فَمَرَّ بِهَا عُثْمَانُ فَقَالَتْ: «أَيْنَ كُسْوَتِي، وَأَيْنَ غَلَّةُ الْيَمَنِ الَّتِي كَانَتْ تَأْتِيَنِي؟» فَقَالَ: هِيَ لَكِ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ عِنْدَهَا، واتَّبَعَها حَتَّى أَعْطَاهَا إِيَّاهَاترجمہ
ام معبد رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ انہیں بیت المال کی طرف سے کپڑا، یمن کی آمدنی میں سے کچھ حصہ، اور ان کے اونٹوں کے لیے تارکول ملا کرتا تھا، تو ایک بار عثمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: ”میرا کپڑا کہاں ہے، اور یمن کی وہ آمدنی کہاں ہے جو مجھے آیا کرتی تھی؟“ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تمہارے پاس ہی محفوظ ہے، اے ام معبد۔ پھر وہ ان کے پیچھے گئے یہاں تک کہ وہ چیز انہیں دے دی۔