حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى خَدِّهِ بَعْدَمَا مَاتَ، وَلَا يُعْلَمُ قَبَّلَ أَحَدًا غَيْرَهُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے رخسار پر بوسہ دیا، اور معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے ان کے سوا کسی اور کو اس طرح بوسہ دیا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَزِيزٌ عَلَى اللهِ أَنْ يَأْخُذَ كَرِيمَتَيْ مُسْلِمٍ، ويُدْخِلُهُ النَّارَ» يَعْنِي عَيْنَيْهِ
ترجمہ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر یہ بات گراں ہے کہ وہ کسی مسلمان کی دو عزیز چیزیں لے لے، پھر بھی اسے جہنم میں داخل کرے۔“ یعنی اس کی دونوں آنکھیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ امْرَأَةٍ مِنْ خُزَاعَةَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبايِعُهُنَّ وَيَقُولُ: «أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ، وَلَا تَعْصِينَنِي فِي مَعْرُوفٍ» قَالَتْ: فَأَطْرَقْنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْنَ: نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّهُ " فَقُلْنَ: نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْناهُ، فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُلْنَ، وَأُمِّي تَقُولُ: قُولِي: نَعَمْ، فَأَقُولُ: نَعَمْ
ترجمہ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنی والدہ رائطہ بنت سفیان، جو خزاعہ قبیلے کی ایک خاتون تھیں، کے ساتھ تھی، اور نبی کریم ﷺ ان سے بیعت لے رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لاؤ گی، اور کسی نیک کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گی۔“ وہ کہتی ہیں کہ عورتیں خاموش ہو گئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: ہاں، جہاں تک ہم سے ہو سکے گا۔“ تو انہوں نے کہا: ہاں، جہاں تک ہم سے ہو سکے گا۔ وہ کہتی ہیں: میں بھی وہی کہتی جو وہ کہتیں، اور میری والدہ کہتیں: کہو: ہاں، تو میں کہتی: ہاں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْبَرَاءُ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْأَعْمَيَيْنِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْأَعْمَيانِ؟ قَالَ: «السَّيْلُ، وَالْبَعِيرُ الصَّؤُولُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! میں دو اندھوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ دو اندھے کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سیلاب، اور کاٹنے والا سرکش اونٹ۔“