❮
❯
حدیث نمبر: 21116
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ فَلَبِثْتُ بَعْدَهُ شَهْرَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَتُ مَا فِي بَطْنِي، فَمَرَّ أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَدَخَلَ عَلَى حَمَوَيَّ، وَقَدْ كَانَ يُرِيدُنِي لِنَفْسِهِ، وَقَدْ تَهَيَّأَتُ لِلنِّكَاحِ وتَحَصَّنْتُ، فَقَالَ: مَا لَكِ يَا سُبَيْعَةُ؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ التَّزَوُّجَ، قَالَ: لَا وَاللهِ إِنَّهُ لأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي، وَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي»
ترجمہ

سیدہ سُبَیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ہوتے ہوئے) فوت ہو گئے۔ میں ان کے بعد دو مہینے ٹھہری، پھر میں نے اپنے پیٹ کا بچہ جن دیا۔ پھر بنو عبدالدار کے ابوالسنابل بن بعکک گزرے اور میرے دو سسرالی رشتہ داروں کے پاس آئے، اور وہ مجھ سے خود نکاح کرنا چاہتے تھے، اور میں نکاح کے لیے تیار ہو چکی تھی اور (نکاح کے ذریعے) پاک دامنی چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا: اے سُبَیعہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، عدت تو چار مہینے دس دن ہی ہے۔ تو میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ آپ ﷺ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عدت پوری ہو چکی ہے، نکاح کر لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 293، حدیث 746