المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سبيعة بنت الحارث الأسلمية، ما أسندت سبيعة بنت الحارث باب: سیدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا؛ سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ: أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلُهَا عَنْ حَدِيثِهَا، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْقَطَتْ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، تُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهِيَ حَامِلٌ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً؟ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلِيَّ ثِيَابِي حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، «فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ يَوْمَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي»عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر حکم دیا کہ وہ سُبَیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ پوچھیں، اور یہ بھی کہ جب ان کا حمل وضع ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کیا فرمایا تھا۔ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھ کر بتایا کہ سُبَیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جو بنو عامر سے تھے اور بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، وہ حجۃ الوداع میں فوت ہو گئے جبکہ وہ حاملہ تھیں، پھر انہوں نے ان کی وفات کے بعد بچہ جنا۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا، تو بنو عبدالدار کے ایک شخص ابوالسنابل بن بعکک ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں بنی سنوری دیکھ رہا ہوں؟ شاید تم نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم پر چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ سیدہ سُبَیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب اس نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سنبھالے یہاں تک کہ شام ہو گئی، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، ”تو آپ ﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں اپنا بچہ جننے کے دن ہی عدت سے نکل چکی ہوں، اور مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو نکاح کر لوں۔“