کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ خولہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا، اوس بن صلت کی زوجہ، جن سے ظہار کیا گیا تھا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَوْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ، وَكَانَتْ، عِنْدَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَكَلِّمْنِي بِشَيْءٍ وَهُوَ فِيهِ كالضَّجِرِ فَرَادَدْتُهُ فَقَالَ: أَنْتِ عَلِيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ، ثُمَّ نَادَى قَوْمَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ فَأَرَادَنِي عَلَى نَفْسِي فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ فَشَادَدَنِي فَشَادَدْتُهُ فَغَلَبَتُهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ الضَّعِيفَ، فَقُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ لَا تَصِلُ إِلَيْهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ فِيَّ وفيكَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْهُ فَقَالَ: " زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ فَاتَّقِي اللهَ، فَأَنْزَلَ اللهُ: {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللهِ} [المجادلة: ١] حَتَّى بَلَغَ الْكَفَّارَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا عِنْدَهُ رَقَبَةً يَعْتِقُهَا، قَالَ: «فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَاللهِ مَا بِهِ صِيَامٌ، قَالَ: «فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُطْعِمُ قَالَ: " بَلْ سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَتَّسِعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا، قُلْتُ: وَأَنَا أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ: «قَدْ أَحْسَنْتِ فَمُرِيهِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا، جو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، بیان کرتی ہیں: ایک دن وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے کسی بات کے بارے میں گفتگو کی جبکہ وہ اس میں کچھ جھنجھلاہٹ کی کیفیت میں تھے، میں نے انہیں پلٹ کر جواب دیا تو انہوں نے کہا: تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو۔ پھر وہ باہر نکل کر بیٹھ گئے، پھر اپنی قوم کو پکارا، پھر میرے پاس لوٹ آئے اور مجھ سے اپنی خواہش پوری کرنی چاہی، میں ان سے رک گئی، انہوں نے مجھ سے زور آزمائی کی اور میں نے بھی ان سے زور آزمائی کی، تو میں ان پر اس طرح غالب آ گئی جیسے عورت کسی کمزور مرد پر غالب آ جاتی ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خویلہ کی جان ہے! تم اس تک نہیں پہنچ سکو گے یہاں تک کہ اللہ میرے اور تمہارے بارے میں فیصلہ فرما دے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ ان کی طرف سے پیش آنے والی بات کی شکایت کروں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارا شوہر اور تمہارے چچا کا بیٹا ہے، اللہ سے ڈرو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکایت کر رہی تھی“ [سورۃ المجادلہ: 1]، یہاں تک کہ کفارے کا ذکر آیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ ایک غلام آزاد کرے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم اس کے پاس کوئی غلام نہیں جسے وہ آزاد کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ لگاتار دو مہینے روزے رکھے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ بوڑھا آدمی ہے، اللہ کی قسم اس میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ! اس کے پاس کھلانے کو کچھ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہم اسے کھجور کے ایک ٹوکرے سے مدد دیں گے۔“ اور وہ ٹوکرا (عَرَق) ایک زنبیل ہے جس میں تیس صاع سماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں بھی اسے ایک اور ٹوکرے سے مدد دیتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا، اسے حکم دو کہ وہ یہ صدقہ کر دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ الصَّامِتِ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَرِيضًا، فَدَعَاهَا، فَأَبْطَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: إِنْ قَرَبْتُكِ أَوْ وَطْأَتُكِ فَأَنْتِ عَلِيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَكُنْ بَلَغَهُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ أَتَتْهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» ، فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، فَقَالَ: «صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» ، قَالَ: لَا أَقْدِرُ، قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثَلَاثِينَ صَاعًا» ، قَالَ: لَا أَمْلِكُ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي فَأَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وأَعَانَهُ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ فَقَالَ: وَاللهِ مَا أَحَدٌ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ: «خُذْهَا أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ هَكَذَا قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ الصَّامِتِ وَهِيَ خَوْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ امْرَأَةُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت صامت رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر بیمار تھے، انہوں نے انہیں بلایا تو انہوں نے آنے میں دیر کر دی، اس پر شوہر نے ان سے کہا: اگر میں تمہارے قریب آؤں یا تم سے صحبت کروں تو تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے اس کی شکایت کی، لیکن آپ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس بارے میں ابھی آپ ﷺ کو کچھ نہیں پہنچا تھا۔ پھر وہ دوبارہ حاضر ہوئیں، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور (اس کے شوہر سے) فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو مہینے لگاتار روزے رکھو۔“ اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو تیس صاع کھانا کھلاؤ۔“ اس نے کہا: یہ میرے بس میں نہیں سوائے اس کے کہ آپ میری مدد کریں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے پندرہ صاع دے کر مدد کی، اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی یہاں تک کہ پورا ہو گیا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم میرے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی اس کا محتاج نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم خود اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے لے لو۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح خولہ بنت صامت نے بیان کیا، اور وہی خولہ بنت ثعلبہ ہیں، اوس بن صامت کی بیوی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح خولہ بنت صامت نے بیان کیا، اور وہی خولہ بنت ثعلبہ ہیں، اوس بن صامت کی بیوی۔