❮
❯
حدیث نمبر: 21004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ الصَّامِتِ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَرِيضًا، فَدَعَاهَا، فَأَبْطَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: إِنْ قَرَبْتُكِ أَوْ وَطْأَتُكِ فَأَنْتِ عَلِيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَكُنْ بَلَغَهُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ أَتَتْهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» ، فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، فَقَالَ: «صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» ، قَالَ: لَا أَقْدِرُ، قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثَلَاثِينَ صَاعًا» ، قَالَ: لَا أَمْلِكُ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي فَأَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وأَعَانَهُ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ فَقَالَ: وَاللهِ مَا أَحَدٌ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ: «خُذْهَا أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ هَكَذَا قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ الصَّامِتِ وَهِيَ خَوْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ امْرَأَةُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ
ترجمہ

سیدہ خولہ بنت صامت رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر بیمار تھے، انہوں نے انہیں بلایا تو انہوں نے آنے میں دیر کر دی، اس پر شوہر نے ان سے کہا: اگر میں تمہارے قریب آؤں یا تم سے صحبت کروں تو تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے اس کی شکایت کی، لیکن آپ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس بارے میں ابھی آپ ﷺ کو کچھ نہیں پہنچا تھا۔ پھر وہ دوبارہ حاضر ہوئیں، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور (اس کے شوہر سے) فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو مہینے لگاتار روزے رکھو۔“ اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو تیس صاع کھانا کھلاؤ۔“ اس نے کہا: یہ میرے بس میں نہیں سوائے اس کے کہ آپ میری مدد کریں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے پندرہ صاع دے کر مدد کی، اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی یہاں تک کہ پورا ہو گیا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم میرے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی اس کا محتاج نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم خود اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے لے لو۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح خولہ بنت صامت نے بیان کیا، اور وہی خولہ بنت ثعلبہ ہیں، اوس بن صامت کی بیوی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21004
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 247، حدیث 634